پاکستان، سری لنکا اور زمبابوے کے درمیان سہ ملکی ٹی ٹوئنٹی سیریز کل سے راولپنڈی میں شروع ہوگی۔سہ ملکی سیریز کا پہلا میچ کل شام پاکستان اور زمبابوے کے درمیان کھیلا جائے گا۔سیریز کے تمام میچز راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے۔

موجودہ سیزن میں پاکستان نے متحدہ عرب امارات میں کھیلی گئی تین ملکی ٹی ٹوئنٹی سیریز اور جنوبی افریقا کے خلاف دو طرفہ  ٹی ٹوئنٹی سیریز جیتی ہے جبکہ ایشیا کپ کا فائنل کھیلا ہے۔

پاکستان ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا کا کہناہے کہ یہ تین ملکی  سیریز ہمارے لیے بالکل درست وقت پر ہے۔ یہ گروپ کی دو اچھی ٹیموں کے خلاف مسلسل کرکٹ کھیلنے کا موقع فراہم کرے گی اور ہماری ٹی ٹوئنٹی منصوبہ بندی کو اگلے سال ہونے والے اہم آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے قبل مزید نکھارنے کا موقع فراہم کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے حالیہ مہینوں میں حوصلہ افزا کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے ۔شارجہ میں سہ فریقی سیریز جیتی۔ ایشیا کپ کے فائنل کے لیے کوالیفائی کیا اور جنوبی افریقا اور سری لنکا کے خلاف وائٹ بال سیریز جیتی۔ ٹیم نے سری لنکا کے خلاف ون ڈے سیریز میں بہترین نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا اور ہم اس تسلسل کو اس سیریز میں لے جانے کے لیے پر امید ہیں۔

ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان کا کہنا تھا کہ ہم نے راولپنڈی کے شائقین کی جانب سے ہوم سائیڈ کے لیے زبردست سپورٹ دیکھی ہے اور ہم اس سیریز میں بھی اعلی معیار کے مقابلے کی توقع کر رہے ہیں۔

پاکستان اور زمبابوے کے درمیان21  ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیلے جاچکے ہیں جن میں پاکستان نے 18 جیتے ہیں جبکہ تین میں زمبابوے نے کامیابی حاصل کی ہے۔پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ابتک 24 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیلے جا چکے ہیں جن میں پاکستان نے14 جیتے ہیں اور 10 میں سری لنکا نے کامیابی حاصل کی ہے۔

پاکستانی سکواڈ: سلمان علی آغا (کپتان)، فخرزمان، صائم ایوب، بابراعظم، صاحبزادہ فرحان، عثمان خان، عبدالصمد، فہیم اشرف، محمد نواز، ابراراحمد، وسیم جونیئر، شاہین شاہ آفریدی، نسیم شاہ، سلمان مرزا اور عثمان طارق پر مشتمل ہے۔

سیریز کا پہلا میچ آج 18 نومبر پاکستان بمقابلہ زمبابوے، دوسرا میچ 20 نومبر سری لنکا بمقابلہ زمبابوے، تیسرا میچ 22 نومبر پاکستان بمقابلہ سری لنکا، چوتھا میچ 23نومبر پاکستان بمقابلہ زمبابوے، پانچواں میچ 25 نومبر زمبابوے بمقابلہ سری لنکا، چھٹا میچ 27 نومبر پاکستان بمقابلہ سری لنکا جبکہ فائنل 29 نومبر کو کھیلا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نومبر پاکستان بمقابلہ اور زمبابوے کے درمیان ٹی ٹوئنٹی سیریز سری لنکا کے خلاف

پڑھیں:

سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک

حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔

اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔

آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔

موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔

یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔

حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔

عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔

بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔

وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی