کرپشن، آبادی اور موسمیاتی تبدیلیاں
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
دنیا بھر میں آبادی میں اضافہ ایک اہم مسئلہ ہے جس کا اثر معیشت، ماحول، صحت اور سماجی ڈھانچوں پر پڑتا ہے۔ خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں جہاں وسائل کی کمی اور معاشی مواقع محدود ہوتے ہیں، زیادہ آبادی غربت کی ایک بڑی وجہ بن جاتی ہے۔
پچھلی صدی کے دوران دنیا کی آبادی میں بے تحاشا اضافہ دیکھنے کو ملا۔ 1950 میں دنیا کی آبادی تقریباً 2.
جب آبادی میں اضافہ ہوتا ہے تو ایک سنگین مسئلہ یہ سامنے آتا ہے کہ دستیاب وسائل جیسے پانی، غذا، صحت کی سہولیات اور تعلیم طلب کے مقابلے میں کم پڑ جاتے ہیں۔ زیادہ آبادی والے علاقے زیادہ آبادی کی وجہ سے زیادہ وسائل کا استعمال کرتے ہیں جس سے بنیادی ضروریات کی فراہمی میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کسی علاقے میں پانی کی فراہمی کی گنجائش محدود ہے اور آبادی بڑھ رہی ہے تو اس کے نتیجے میں پانی کی قلت ہوگی۔ یہ صورتحال نہ صرف صحت کے مسائل پیدا کرتی ہے بلکہ زراعت اور فصلوں کی پیداوار میں بھی کمی کا باعث بنتی ہے۔ جب زراعت متاثر ہوتی ہے تو لوگوں کے پاس کھانے کےلیے کم وسائل رہ جاتے ہیں جس کی وجہ سے غربت میں اضافہ ہوتا ہے۔
تعلیم کا بھی آبادی کے مسائل سے گہرا تعلق ہے۔ امریکا جیسے ترقی یافتہ ممالک میں تعلیم کا معیار بہتر ہے جبکہ زیادہ آبادی والے ترقی پذیر ممالک میں تعلیمی نظام غالباً متاثر ہوتا ہے۔ جب آبادی بڑھتی ہے تو تعلیم کی سہولیات کی فراہمی مشکل ہوجاتی ہے۔ زیادہ آبادی والے علاقوں میں صحت کی سہولیات کی کمی بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ آبادی کے بڑھنے کے ساتھ صحت کی خدمات کی طلب میں اضافہ ہوتا ہے، لیکن زیادہ تر ممالک اس چیلنج کا مقابلہ نہیں کرپاتے۔ اس کا نتیجہ بیماریوں، بچوں کی کمزور صحت، اور دیگر صحت کے مسائل کی شکل میں نکلتا ہے۔ بیماریوں کی وجہ سے افراد کام کرنے میں ناکام رہتے ہیں، جس کی وجہ سے روزگار کے مواقع کم ہوتے ہیں اور غربت بڑھتی ہے۔ خاص طور پر بچوں کی صحت پر یہ اثرات زیادہ شدید ہوتے ہیں۔ جب بچے صحت مند نہیں ہوتے تو ان کی تعلیم متاثر ہوتی ہے، اور وہ اپنے بالغ ہونے کے بعد کمزور معاشی حالت میں کام کرتے ہیں۔ اس طرح صحت، تعلیم اور غربت کے درمیان ایک ’’سائیکل‘‘ قائم ہوجاتا ہے، جسے توڑنا قدرے مشکل ہوتا ہے۔
علاوہ ازیں غربت کی ایک اور وجہ مہنگائی بھی ہے۔ جب آبادی بڑھتی ہے تو مانگ میں اضافہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے قیمتیں بڑھنے لگتی ہیں۔ غذا، رہائش، صحت کی خدمات وغیرہ کی قیمتیں بڑھ جانے سے غریب طبقہ مزید مشکلات میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ مہنگائی کے نتیجے میں غریب لوگ اپنی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے میں ناکام رہتے ہیں جس کی وجہ سے وہ غربت کی دلدل میں دھنستے چلے جاتے ہیں۔
اب جب کہ ہم یہ مشاہدہ بھی کر چکے ہیں کہ زیادہ آبادی کس طرح غربت کی وجہ بنتی ہے ہمیں اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کےلیے سرمایہ کاری ضروری ہے۔ خصوصی طور پر لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ دینا اہم ہے کیونکہ تعلیم یافتہ خواتین معاشرتی تبدیلیوں میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ صحت کی بنیادی سہولیات کے فروغ پر توجہ دینا، خاص طور پر بنیادی صحت کی خدمات کی فراہمی میں بہتری لانا ضروری ہے۔ اس سے بیماریوں کا پھیلاؤ کم ہوگا اور لوگوں کی عمر دراز ہوگی جس کی وجہ سے معیشت میں بہتری آئے گی۔ پانی، غذا اور دیگر وسائل کے موثر انتظام کےلیے منصوبہ بندی ہونی چاہیے۔ حکومت اور متعلقہ وزارت کو نئی ٹیکنالوجیز کا استعمال کرنا چاہیے تاکہ موجودہ وسائل کو بہتر طریقے سے استعمال میں لایا جاسکے۔ ملک بھر میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کےلیے مالی امداد فراہم کرنا اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا بھی ایک بہترین ماڈل مانا گیا ہے۔ اس ماڈل کے تحت لوگوں کو معیشت میں شامل کیا جاتا ہے اور غربت کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ ہمارے وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات سینیٹراورنگزیب نے بھی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور موسمیاتی تبدیلی کو پاکستان کےلیے دو بنیادی ’’وجودی خطرات‘‘ قرار دیا ہے جب کہ وہ کرپشن کا نام لینا بھول گئے ہیں۔
ایک تقریب میں وہ یہ کہتے ہوئے سنے گئے کہ پاکستان استحکام کی منزل کے حصول کے بعد اب پائیداراقتصادی نمو کی راہ پر گامزن ہے، مگر آبادی کے لحاظ سے وسائل کاانتظام کرنا ہوگا۔ معاشی اشاریوں میں بہتری آئی ہے، وطن عزیز کی آبادی میں اضافے کی شرح 2.5 فیصد کے قریب ہے جو کہ بہت زیادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بچے ہمارے مستقبل کے لیڈر ہیں۔ پاکستان میں 40 فیصدکے قریب بچے ’’اسٹنٹنگ‘‘ یعنی رکی ہوئی گروتھ کا شکار ہیں۔ 50فیصد لڑکیاں اسکول سے باہر ہیں۔ مانا کہ یہ دونوں بہت ہی سنجیدہ نوعیت کے مسائل ہیں مگر انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کرپشن کو بنیادی وجہ قرار دے رہا ہے۔
اب اگر موسمیاتی تبدیلیاں اور ان تبدیلیوں سے موافقیت اہم مسئلہ ہے تو پھر کرپشن اور ایسی کرپشن جو سروسز کی فراہمی کی مد میں لی جاتی ہے، اسے کیا کہیں گے۔ اس مسئلے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کےلیے صرف قانون پر عملدرآمد کی ضرورت ہے۔ ارباب اقتدار یہ ناسور ختم کردیں، باقی ماندہ مسائل حل ہوہی جائیں گے۔ بہتر مواقع کی تلاش میں دیہی علاقوں سے شہروں اور بڑے قصبات میں نقل مکانی کا عمل بھی جاری ہے جس کے نتیجے میں کچی آبادیوں کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے۔ ان آبادیوں میں پینے کےلیے صاف پانی، نکاسی آب، صحت عامہ، بنیادی تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات کا فقدان ظہور پذیر ہوتا ہے۔ سماجی ترقی کےلیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آبادی میں اضافہ اور موسمیاتی تبدیلیوں کا ایک دوسرے سے براہ راست تعلق ہے۔ کرپشن کے خاتمہ، موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت، وسائل کی تخصیص اور ان میں اصلاحات کےلیے اب باتوں سے بڑھ کر کچھ کرنا ہوگا۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: زیادہ ا بادی جس کی وجہ سے کی سہولیات میں بہتری کی فراہمی ممالک میں کے مسائل غربت کی صحت کی
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔