وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ سی پیک فیز 2 کا آغاز ہو چکا ہے، اس فیز میں انفراسٹرکچر کے بجائے ٹیکنالوجی، معیشت، پسماندہ علاقوں میں سوشل اکنامک ڈیویلپمنٹ، گرین انرجی اور زراعت میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے منصوبے شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سرحد اور سی پیک کی حفاظت کے لیے 50 ارب روپے کی اضافی رقم کی منظوری

سی پیک فیز 2 سے متعلق سوال کے جواب میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ سی پیک فیز 2 کا آغاز 26 ستمبر سے ہو گیا ہے جب وزیراعظم شہباز شریف اور چینی قیادت کے درمیان ستمبر کے شروع میں مذاکرات ہوئے تھے جن میں اس کا فریم ورک طے کیا گیا ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ 2015 میں جب سی پیک معاہدہ ہوا تو سی پیک فیز ون میں زیادہ توجہ توانائی کے شعبوں میں انفراسٹرکچر پر فوکس تھی، سی پیک سے 3 سالوں میں 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آئی، جس میں موٹرویز بنے، گوادر میں ترقیاتی کام ہوئے، بجلی کے 8 ہزار میگاواٹ کے منصوبے لگے تاہم اگلے 4 سال میں ہمیں چور ڈاکو، چور ڈاکو کا نشانہ بنایا گیا، اسی طرح سی پیک کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے 3 وزرا کے بیانات کو لے کر امریکا کی اسسٹنٹ اسٹیٹ سیکریٹری نے پریس کانفرنس کی کہ بیلٹ اینڈ روڈ سارا کرپشن اور مہنگے قرضوں کا معاملہ ہے اور یہ پاکستان کے وزیر کہہ رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سے چین کے اندر بددلی اور بداعتمادی پیدا ہوئی، وہ پاکستان سے توقع نہیں کر رہے تھے کہ چینی صدر کے میگا منصوبوں کو جھوٹے اور بے بنیاد بیانات کے ذریعے بدنام کیا جائے گا، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بہت سے چینی سرمایہ کار پاکستان چھوڑ گئے۔

یہ بھی پڑھیں: سی پیک فیز ٹو کا آغاز ہو چکا، چین نے کبھی کسی دوسرے ملک سے تعلق نہ رکھنے کی شرط نہیں لگائی، احسن اقبال

انہوں نے کہا کہ 2022 کے بعد ہم نے چین کے ساتھ دوبارہ بات چیت شروع کی، اعتماد بحال کیا اور اسی کا نتیجہ ہے کہ سی پیک کے فیز 2 میں چین نے اب 5 کوریڈور کا اعلان کیا ہے، پہلا کوریڈور گروتھ کا ہے کہ کس طرح پاکستان کی معیشت میں گروتھ لائی جائے۔

احسن اقبال نے کہا کہ دوسرا کوریڈور پسماندہ علاقوں میں لوگوں کی زندگی میں تبدیلی لانے کے لیے سوشل اکنامک پروجیکٹس ہیں، تیسرا کوریڈور ٹیکنالوجی پر مبنی ہے، چین نے مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی میں کافی مہارت حاصل کر لی ہے، بہتر ہوگا کہ ہم بھی چین سے اس ضمن میں استفادہ حاصل کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک فیز 2 کا چوتھا کوریڈور گرین انرجی کا ہے، چونکہ اب چین بھی دنیا میں گرین انرجی ٹرانزیشن کر رہا ہے اور ایندھن بیسڈ پلانٹس بند کر دیے ہیں، چین اس میدان میں بھی ہماری مدد کرنا چاہتا ہے۔

پانچواں کوریڈور یہ ہے کہ اوپن ریجنل ڈیویلپمنٹ ہے کہ کس طرح ہم پاکستان اور چین کے فریم ورک کو خطے کے ساتھ جوڑیں، اس فریم ورک کے اندر بہت سارے نئے منصوبوں کا آغاز ہو چکا ہے، جن کا فوکس انفراسٹرکچر نہیں بلکہ پاکستان میں زراعت کی ترقی، پاکستان کے مائن اینڈ منرلز کے پوٹینشل کو بڑھانے پر بھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان، چین، افغان وزرائے خارجہ کا اجلاس، سی پیک کو افغانستان تک توسیع دینے پر اتفاق

انہوں نے کہا کہ ابھی حال ہی میں پاکستان کے ایک ہزار زرعی ماہرین چین گئے اور وہاں سے زراعت کی جدید ترین ٹیکنالوجی کے استعمال کی تربیت حاصل کرکے آئے ہیں، یہ ایک ہزار لوگ ہمیں چینی تجربے سے مستفید کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news احسن اقبال پاکستان چین سی پیک.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: احسن اقبال پاکستان چین سی پیک احسن اقبال نے کہا انہوں نے کہا کہ سی پیک فیز 2 کہ سی پیک

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم