قائداعظم اور علامہ اقبال کو دعائیں دینا چاہییں کہ اس وقت ہم ایک آزاد ملک ہیں، مشاہد حسین
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
دفاعی تجزیہ کار مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ بھارت سمجھتا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان اصل مسئلہ اکھنڈ بھارت ہے۔
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کے دوران سوال کیا گیا کہ کیا پاکستان اور بھارت کے درمیان اصل مسئلہ اکھنڈ بھارت ہے؟ جواب میں مشاہد حسین سید نے کہا کہ ایسا ہی ہے، ہم بھی گہرائی میں جاکر مغل ایمپائر کی بحالی کا مطالبہ کرسکتے ہیں کیونکہ انڈیا کبھی آزاد ریاست نہیں تھا، وہ برطانوی دور یا مغل ایمپائر کی صورت میں ریاست تھا۔
انہوں نے کہا کہ قائداعظم اور علامہ اقبال کو دعائیں دینا چاہییں کہ اس وقت ہم ایک آزاد ملک ہیں، ورنہ اس وقت بھارت میں جو حال ہے وہ دو قومی نظریے کو سچ ثابت کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہندوتوا بھارت کو اکھنڈ بھارت بنانا چاہتی ہے جس میں دس ممالک شامل ہوں، جن میں افغانستان، بنگلہ دیش، نیپال، بھوٹان، مالدیپ، میانمار، سری لنکا اور تبت شامل ہیں، یہ ہندوتوا کے عزائم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت میں ’بندے ماترم‘ کو زبردستی مسلط کیا جاتا ہے، 1937 میں ہندوستان میں کانگریس نے حکومت بنائی تو بندے ماترم کو سرکاری اداروں میں نافذ کیا گیا۔
بھارتی وزیراعظم بھی ہزار سال کی غلامی کی بات کرتے ہیں، حالانکہ پاکستان بنے ہوئے صرف 75 سال ہوئے ہیں۔ مودی مسلم حکمرانوں کی بات کرتے ہیں، جبکہ گاندھی نے بھی 1971 میں کہا تھا کہ ہم نے 1000 سال کا بدلہ لیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہندوتوا کہہ رہے ہیں کہ پاکستان مادر انڈیا سے علیحدہ ہوا ہے اور اس میں صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ افغانستان بھی شامل ہے۔
افغان طالبان کے بھارت کی طرف جھکاؤ کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر مشاہد حسین سید نے کہا کہ پاکستان نے 40 سال تک افغان مہاجرین کی مثالی میزبانی کی ہے، افغان مہاجرین کو پاکستان میں مکمل آزادی حاصل تھی، جب کہ ایران نے انہیں کیمپوں میں رکھا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: مشاہد حسین کہ پاکستان نے کہا کہ
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔