فیصل راٹھور اور ان کے والد ممتاز راٹھور کی وزارت عظمیٰ کے حلف اور ادوار میں مماثلت
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
کولاج بشکریہ فیس بُک اکاؤنٹ
نو منتخب وزیرِ اعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔
فیصل ممتاز راٹھور اور اِن کے والد راجا ممتاز حسین راٹھور کی وزارتِ عظمیٰ کے حلف اور ادوار میں دلچسپ مماثلت سامنے آئی ہے۔
1990ء میں راجا ممتاز حسین راٹھور سے بطور صدر ریاست سردار عبدالقیوم نے وزارتِ عظمی کا حلف نہیں لیا تھا، صاحبزادہ اسحاق ظفر نے بطور اسپیکر قانون ساز اسمبلی ممتاز حسین راٹھور سے حلف لیا تھا۔
فیصل ممتاز راٹھور کی حلف برداری کی تقریب ایوان صدر میں ہوئی۔
نومنتخب وزیرِاعظم فیصل راٹھور سے بھی صدر بیرسٹر سلطان نے علالت کے باعث حلف نہیں لیا، قانون ساز اسمبلی آزاد کشمیر کے اسپیکر چوہدری لطیف اکبر نے فیصل ممتاز راٹھور سے حلف لیا ہے۔
ممتاز حسین راٹھور 1990ء میں وزیرِ اعظم بنے تھے جن کی حکومت صرف 9 ماہ چل سکی تھی۔
فیصل راٹھور اگست 2026ء تک وزیرِ اعظم رہیں گے، اِن کی مدت بھی تقریباً 9 ماہ بنے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: فیصل ممتاز راٹھور ممتاز حسین راٹھور راٹھور سے
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔