دنیا بھر میں انٹرنیٹ کا بریک ڈاؤن؛ متعدد ویب سائٹس بند؛ صارفین کو مشکلات کا سامنا
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
عالمی سطح پر اچانک متعدد ویب سائٹس بند ہوجانے سے صارفن کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کی وجہ انٹرنیٹ کلاؤڈ فلیئر کی خرابی بتائی جا رہی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق آج دوپہر سے عام استعمال کی ویب سائٹس بھی سست روی کے بعد اچانک سے بند ہونا شروع ہوگئیں۔
متعدد صارفین کو ویب سائٹس کھولنے پر ایرر 500 کا سامنا ہے جبکہ کلاؤڈ فلیئر ڈیش بورڈ اور اے پی آئی بھی کام نہیں کر رہی ہیں۔
ویب سائٹس انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ دراصل کلاؤڈ فلیئر کی جانب سے فراہم کردہ سروسز میں خرابی کے باعث پیدا ہوا ہے۔
کلاؤڈ فلیئر کی خرابی کے باعث ہی دنیا بھر میں کئی ویب سروسز اور پلیٹ فارمز متاثر ہوئے ہیں۔
دوسری جانب کلاؤڈ فلیئر کمپنی نے بتایا کہ اس مسئلے سے آگاہ ہیں اور تحقیقات جاری ہیں۔ جلد ہی بحالی کا کام مکمل ہوجائے گا۔ صارفین سے معذرت خواہ ہیں۔
واضح رہے کہ کیلیفورنیا میں قائم یہ کمپنی ویب سائٹس، ویب ایپلی کیشنز اور نیٹ ورکس کی سیکیورٹی، کارکردگی اور قابلِ بھروسہ آپریشنز کے لیے خدمات فراہم کرتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ویب سائٹس
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔