کلاوڈ فلیئر سسٹم میں خرابی کے باعث ٹوئٹر اور چیٹ جی پی ٹی سمیت متعدد ویب سائٹس ڈائون
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
کلاوڈ فلیئر سسٹم میں خرابی کے باعث ٹوئٹر اور چیٹ جی پی ٹی سمیت متعدد ویب سائٹس ڈائون WhatsAppFacebookTwitter 0 18 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)کیا آپ کے کمپیوٹر پر ایکس، چیٹ جی پی ٹی اور مختلف ویب سائٹس اوپن نہیں ہو رہیں؟،اگر ہاں ایسا صرف آپ کے ساتھ نہیں ہو رہا بلکہ دنیا کے مختلف خطوں میں انٹرنیٹ صارفین ان سروسز تک رسائی حاصل نہیں کر پا رہے۔اس کی وجہ کلاوڈ فلیئر کے سسٹم میں مسائل کے باعث ایکس سمیت متعدد ویب سائٹس تک رسائی ممکن نہیں ہو رہی۔
کلاڈ فلیئر ایسی انٹرنیٹ انفرا اسٹرکچر کمپنی ہے جو کانٹینٹ ڈیلیوری نیٹ ورک کے طور پر کام کرتی ہے۔یعنی ویب سائٹس کے مواد کو تیزی سے ایک سے دوسری جگہ منتقل کرتی ہے اور اب اس کے سسٹم میں نامعلوم خرابی ہوئی ہے۔کمپنی کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ ہم مسئلے سے آگاہ ہیں اور اس کے بارے میں جاننے کے لیے کام کر رہے ہیں۔کلاوڈ فلیئر کے سسٹم میں خرابی کے باعث ایکس ٹریفک بھی متاثر ہوا ہے۔
کلاوڈ فلیئر کے باعث بیشتر ویب سائٹس لوڈ نہیں ہو رہیں مگر جو لوڈ ہو رہی ہیں ان میں بھی کانٹینٹ اور تازہ ڈیٹا غائب ہے۔زیادہ تر متاثرہ ویب سائٹس میں انٹرنل سرور ایرر نظر آرہا ہے۔یہ واضح نہیں کہ یہ مسئلہ کب تک برقرار رہ سکتا ہے کیونکہ کلاوڈ فلیئر کی جانب سے اس بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراشتعال انگیزی، قتل کے فتوئوں کے الزام پر کالعدم انتہا پسند جماعت کے31افراد پر مقدمات درج کیے گئے،عظمی بخاری اشتعال انگیزی، قتل کے فتوئوں کے الزام پر کالعدم انتہا پسند جماعت کے31افراد پر مقدمات درج کیے گئے،عظمی بخاری وزیر داخلہ محسن نقوی سے امریکی سفیر نیٹلی بیکر کی ملاقات، اسلام آباد دھماکے کی مذمت پی ٹی آئی نے بانی سے ملاقات کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا بھارتی آرمی چیف کا باہمی تضادات اور ذہنی انتشار سے بھرا بیان، عسکری قیادت شدید ذہنی بوکھلاہٹ کا شکار پاکستان و امریکی نجی کمپنیز کے مابین ریئر ارتھ منرلز اور قیمتی دھاتوں پر بڑا معاہدہ ہوگیا اسلام آباد ہائیکورٹ عمارت منتقلی کے معاملے پر نیا موڑ، ہائیکورٹ بار اور ڈسٹرکٹ بار آمنے سامنےCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔