خیبر پختونخوا حکومت کا امن جرگہ آج پشاور میں منعقد ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
پشاور:
خیبر پختونخوا حکومت کے زیر اہتمام امن جرگہ آج صوبائی اسمبلی میں منعقد ہو رہا ہے، جس کے لیے اسمبلی ہال میں 400 افراد کے بیٹھنے کا انتظام کیا گیا ہے جبکہ اس موقع پر خصوصی سیکیورٹی پلان ترتیب دیا گیا ہے۔
امن جرگے کا اعلامیہ وفاقی حکومت، سیکیورٹی اداروں اور ایپکس کمیٹی کو پیش کیا جائے گا۔ جرگے میں بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، مذہبی شخصیات، عمائدین اور پارلیمنٹرینز کو مدعو کیا گیا ہے۔
شرکائے جرگہ کے لیے خصوصی پاسز جاری کیے گئے ہیں جبکہ اسمبلی کے اطراف سخت سیکیورٹی کے انتظامات کیے گئے ہیں۔
اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی اسمبلی پہنچ گئے، جہاں ان کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔
میڈیا سے گفتگو میں اسپیکر بابر سلیم سواتی نے کہا کہ جن جماعتوں کو دعوت دی گئی ہے، وہ سب جرگے میں شریک ہوں گی، اور امید ہے کہ خیبر پختونخوا امن جرگہ کامیاب ثابت ہوگا۔
ادھر مہمانوں کی آمد کا سلسلہ اسمبلی ہال میں جاری ہے، اور جرگے کے آغاز سے قبل سیکیورٹی اہلکاروں نے علاقے کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان کا کہنا تھا کہ کچھ ہی دیر میں اسپیکر صوبائی اسمبلی کی میزبانی میں آج ایک تاریخی ’’خیبر پختونخوا امن جرگہ‘‘ منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں خیبر پختونخوا کے تمام مکاتبِ فکر کو مدعو کیا گیا ہے۔
شفیع جان کا کہنا تھا کہ صوبے کے نوجوان وزیرِاعلیٰ کی قیادت میں بانی چیئرمن عمران خان کے ویژن کے مطابق صوبائی حکومت امن و امان کی بہتری کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے، آج ہم یہ عزم لے کر جا رہے ہیں کہ امن کے فیصلے عوامی نمائندہ ایوانوں کے اندر کریں گے۔ ہم تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بیٹھ کر گفت و شنید کے ذریعے دیرپا امن چاہتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا امن جرگہ کیا گیا گیا ہے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔