میرے اثاثے جو آج ہیں وہ وزرات عظمیٰ کے بعد بھی دیکھ لیجیے گا، فیصل ممتاز راٹھور
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
نو منتخب وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فیصل ممتاز راٹھور
نو منتخب وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فیصل ممتاز راٹھور کا کہنا ہے کہ میرے اثاثے جو آج ہیں وہ وزرات عظمیٰ کے بعد بھی دیکھ لیجیے گا۔
آزاد کشمیر اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ اللّٰہ نے سیاسی ورکر کے کاندھوں پر بھاری ذمہ داری ڈال دی، یہ ذمہ داری صرف مجھ پر نہیں ان سب پر ہے جنھوں نے مجھے ووٹ دیا، ذوالفقار بھٹو، بے نظیر بھٹو نے میرے والد پر وزرات عظمیٰ کی ذمہ داری ڈالی۔
اجلاس میں شرکت کے لیے اراکین کی ایوان میں آمد کا سلسلہ جاری ہے۔
فیصل راٹھور نے مزید کہا کہ آج بلاول بھٹو نے مجھ پر اعتماد کیا اور ذمہ داری ڈالی، پہلی بار جانے والا وزیر اعظم آنے والے وزیراعظم کو خوش آمدید کہتا ہوا رخصت ہوا۔
انہوں نے کہا کہ ایکشن کمیٹی حقیقت ہے، جسے تسلیم کرنا ہوگا، عوام کے مسائل کو وسائل کے اندر رہ کر حل کرنا ہے، کچھ مسئلے حل ہو سکتے تھے، جس میں تاخیر ہوئی، بطور وزیراعظم عہد کرتا ہوں، میرے قلم سے تاخیر نہیں ہوگی۔
فیصل راٹھور نے کہا کہ لوگ سمجھتے ہیں ہم مراعات یافتہ طبقہ ہیں لیکن ہم سیاست دان ایسے نہیں، والد نےایک مکان بنایا، جسے میں نے الیکشن اخراجات کیلئے فروخت کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: فیصل ممتاز راٹھور کہا کہ
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔