شہباز شریف کا آزاد کشمیر کے نو منتحب وزیراعظم سے ٹیلیفونک رابطہ، ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
ویب ڈیسک :وزیراعظم شہباز شریف نے آزاد کشمیر کے نو منتخب وزیراعظم راجہ فیصل ممتاز راٹھور کو ٹیلی فون کرکے مبارکباد دی۔
وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے آزاد کشمیر کے نو منتخب وزیر اعظم فیصل راٹھور کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام کی ترقی و خوشحالی وفاقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر کے عوام کی فلاح و بہبود، معاشی ترقی و خوشحالی اور امن و سلامتی کے لیےآزاد کشمیر حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہیں،آزادکشمیر کی حکومت کے لیے وفاقی حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔
صوبہ بھر میں ڈرائیونگ لائسنس کے اجراء کا سلسلہ تیزی سے جاری
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: آزاد کشمیر کے
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔