سیکرٹری کے پاس صرف ایک گاڑی ہوگی، ایکشن کمیٹی حقیقت ہے جسے تسلیم کرنا ہوگا، نو منتخب وزیر اعظم آزادکشمیر WhatsAppFacebookTwitter 0 17 November, 2025 سب نیوز

مظفرآباد(سب نیوز) نو منتخب وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فیصل ممتاز راٹھور نے اسپیشل سیکرٹری اور سینیئر سیکرٹری کا عہدہ ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ سیکرٹری صاحبان کے پاس صرف ایک گاڑی ہوگی۔
نو منتخب وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فیصل ممتاز راٹھور نے ایوان سے پہلے خطاب میں کہا کہ اللہ نے سیاسی ورکر کے کاندھوں پر بھاری ذمہ داری ڈال دی، یہ ذمہ داری صرف مجھ پر نہیں ان سب پر ہے جنہوں نے مجھے ووٹ دیا، ذوالفقار بھٹو، بے نظیر بھٹو نے میرے والد پر وزرات عظمی کی ذمہ داری ڈالی۔ آج بلاول بھٹو نے مجھ پر اعتماد کیا اور ذمہ داری ڈالی۔وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ پہلی بار جانے والا وزیر اعظم آنے والے وزیراعظم کو خوش آمدید کہتا ہوا رخصت ہوا، ایکشن کمیٹی حقیقت ہے،جسے تسلیم کرنا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام کے مسائل کو وسائل کے اندر رہ کر حل کرنا ہے،کچھ مسئلے حل ہوسکتے تھے،جس میں تاخیر ہوئی، بطور وزیراعظم عہد کرتا ہوں،میرے قلم سے تاخیر نہیں ہوگی۔نو منتخب وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ لوگ سمجھتے ہیں ہم مراعات یافتہ طبقہ ہیں لیکن ہم سیاست دان ایسے نہیں، والد نے ایک مکان بنایا، جسے میں نے الیکشن اخراجات کیلئے فروخت کیا۔میرے اثاثے جو آج ہیں وہ وزرات عظمی کے بعد بھی دیکھ لیجئے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان کے ساتھ اپنے رشتوں کو مضبوط کرنا ہے، 6،7 ماہ میں ڈیلیور کر گئے تو اگلی حکومت میں ایم ایل اے کی حیثیت سے کام کروں گا، ایکشن کمیٹی کے کچھ معاملات جینوئن ہیں، کچھ خواہشات ہیں، مہاجرین نشستوں سے متعلق ان سے بات کریں گے۔
نو منتخب وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ سیکرٹری صاحبان کے پاس صرف ایک گاڑی ہوگی، سیکرٹریز کی تعداد 20 ہوگی، اسپشل سیکرٹری اور سینیئر سیکرٹری کا عہدے ختم کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم کی ٹینکل اسامیوں کو محکمہ تعلیم میں ضم کیا جائے گا، سرکاری ملازمتوں میں خواتین کے لیے برابر کے مواقع فراہم کریں گے، عدالتی اصلاحات کی جائیں گی۔گریڈ ایک کے ملازمین کو ایک ماہ کی اضافی تنخواہ کا اعلان کرتا ہوں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان انویسٹرز فورم جدہ کی نئی قیادت کے لیے اہم نامزدگیاں پاکستان انویسٹرز فورم جدہ کی نئی قیادت کے لیے اہم نامزدگیاں وفاقی آئینی عدالت مستقل بنیادوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ کی پرانی عمارت میں قائم کرنے کا فیصلہ پاکستان کی خارجہ پالیسی فعال، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں 90ہزار جانوں کی قربانیاں دیں، عطا تارڑ ڈی آئی خان، سکیورٹی فورسز کی کارروائی، فتن الخوارج کے سرغنہ سمیت 10 دہشتگرد ہلاک سرکاری حج اسکیم 2026کی دوسری قسط جمع کرانے کی آخری مہلت میں 3روز کی توسیع عرفان صدیقی کی وفات کے باعث خالی ہونے والی سینیٹ نشست پر انتخاب کا شیڈول جاری TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: ایکشن کمیٹی

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع