عظمیٰ بخاری کی فیک نازیبا ویڈیو اپ لوڈ کرنے کے مقدمے میں ملزم کے وارنٹ گرفتاری جاری
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کی فیک نازیبا ویڈیو اپ لوڈ کرنے کے مقدمے میں ملزم کی ضمانت منسوخی کی درخواست پر ملزم علی حسن کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے عظمیٰ بخاری کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ فیک ویڈیو کیس میں ملزم 25 پیشیوں کے باوجود ٹرائل کورٹ میں پیش نہیں ہو رہا، جس کے باعث ٹرائل تاخیر کا شکار ہو رہا ہے، لہٰذا عدالت ملزم اسد علی کی درخواست ضمانت منسوخ کرے۔
ملزم علی حسن کی جانب سے اظہر صدیق ایڈووکیٹ پیش ہوئے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالتی نوٹس کے باوجود ملزم کیوں پیش نہیں ہوا؟
وکیل نے بیان دیا کہ اگر عدالت کہے تو ابھی ملزم کو بلا لیتے ہیں، چیف جسٹس عالیہ نیلم نے اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ نوٹس ملزم کو ہوا تھا وکیل کو نہیں۔
عدالت نےعدم پیشی پرملزم علی حسن کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے اور درخواست پر کارروائی ملتوی کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں اور انتخابی دستاویزات کی تفصیلات حاصل کرنے کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔یہ درخواست میاں آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی، جس میں ثاقب چدھڑ کے کاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ثاقب چدھڑ کے خلاف سپیکر پنجاب اسمبلی کے پاس نااہلی کی درخواست پہلے ہی دائر کی جا چکی ہے لہٰذا ان کی رکنیت برقرار رہنے یا نہ رہنے کے معاملے کی جانچ پڑتال کے لئے انتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔درخواست گزار کے مطابق رکن اسمبلی پر ایک خاتون کو مہنگی گاڑیاں، قیمتی تحائف اور جائیداد بطور تحفہ دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں، جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ بن چکا ہے۔(جاری ہے)
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، اس لئے ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ اور زیر کفالت افراد کے تمام موجودہ اور سابقہ اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ شفافیت اور احتساب کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے متعلقہ انتخابی اور مالی ریکارڈ تک رسائی ضروری ہے، تاکہ حقائق کی بنیاد پر معاملے کا جائزہ لیا جا سکے۔