جسٹس منیر سے لے کر گڈ ٹو سی یو تک ججز کا ضمیر نہیں جاگا، ہمیں فرشتے بننے کا کہتے ہیں، خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ خود پر بہت کنٹرول کر رہا ہوں کہ جو جج خط لکھ رہے ہیں کسی دن میڈیا پر بیٹھ کر ان کے ماضی پر بھی نظر دوڑاؤں۔
ایک ٹی وی شو میں ججز کی طرف سے خطوط پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ججز ہم سیاستدانوں سے بڑے سیاستدان ہیں، پاکستان میں عدلیہ کی تاریخ دیکھیں، جسٹس منیر سے لے کر گڈ ٹو سی یو تک ان کا ضمیر نہیں جاگا۔
یہ بھی پڑھیے: اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے بغیر جمہوریت ممکن نہیں، خواجہ آصف
خواجہ آصف نے کہا کہ ججز ایک معیار کا اطلاق ہم پر کرتے ہیں لیکن اس کا اپنے اوپر اطلاق نہیں کرتے، سیاستدانوں کو فرشتہ بننے کا کہتے ہیں جو کہ ممکن نہیں ہے، ملک میں آج تک جو کچھ ہوا سب کے ہاتھ بندھے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ججز خواجہ آصف سپریم کورٹ عدلیہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: خواجہ ا صف سپریم کورٹ عدلیہ خواجہ آصف
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔