بشری بی بی کے بیٹے موسی مانیکا کے وارنٹ گرفتاری جاری ، گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
بشری بی بی کے بیٹے موسی مانیکا کے وارنٹ گرفتاری جاری ، گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم WhatsAppFacebookTwitter 0 16 November, 2025 سب نیوز
پاکپتن (آئی پی ایس )خاور مانیکا اور بشری بی بی کے چھوٹے بیٹے موسی مانیکا کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے گئے۔رپورٹ کے مطابق موسی مانیکا 17 جولائی 2025 کو اپنے گھر پر معمولی تنازع کے دوران گھریلو ملازم پر تشدد کے کیس میں مرکزی ملزم ہیں۔
جج نے پاکپتن صدر پولیس کو یہ حکم دیا کہ وہ موسی مانیکا کو گرفتار کرکے 19 نومبر کو عدالت میں پیش کیا جائے۔یہ مقدمہ صدر پولیس اسٹیشن میں اس وقت درج کیا گیا تھا، موسی نے 18 سالہ ملازم علی بہادر پر اجازت کے بغیر کمرے سے چادریں اتارنے پر غصے میں فائرنگ کردی تھی۔بعد ازاں پولیس کو کال کی گئی، جس پر پولیس کی ٹیم موقع پر پہنچی، انہیں حراست میں لیا اور واقعے میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھی برآمد کیا تھا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرروس کی پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں کمی کیلئے ثالثی کی پیشکش روس کی پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں کمی کیلئے ثالثی کی پیشکش دولتِ مشترکہ میں نوجوانوں کی آواز کو مزید مضبوط بنایا جائے،رانا مشہود حکومت کا پیٹرول پرلیوی میں ایک روپے 60پیسے فی لیٹر کا اضافہ پنجاب حکومت کا کرشنگ میں تاخیر کرنے والی شوگر ملز کے خلاف کریک ڈاون کا فیصلہ خودکش بمبار نے کچہری سے قبل ایک اور مقام پر حملے کی کوشش کی، تحقیقات میں انکشاف ترمیم پارلیمنٹ کا حق، مزید کرنا پڑی تو کرینگے، ججز کے استعفے سیاسی ہیں، طلال چودھریCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: موسی مانیکا
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :