سازش کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی، دہلی کار دھماکہ پر نریندر مودی کا ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
دہلی میں لال قلعہ کے پاس کار میں دھماکہ کی شدت اتنی خطرناک تھی کہ آس پاس موجود دیگر گاڑیوں اور لوگوں کے پرخچے اڑ گئے۔ اب تک اس حادثہ میں مہولین کی تعداد 12 ہوگئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے بھوٹان کے دورے کے دوران دہلی میں ہوئے خطرناک حادثہ پر اظہار افسوس کیا اور متاثرہ فیملی کے تئیں اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ بھاری دل سے بھوٹان آئے ہیں کیونکہ گزشتہ شام (10 نومبر) کے حادثہ نے پورے ملک کو گہرے صدمے میں ڈال دیا ہے۔ نریندر مودی نے بتایا کہ وہ پوری رات حادثہ کی جانچ میں مصروف سبھی ایجنسیوں کے ساتھ رابطے میں رہے اور ضروری احکامات دیتے رہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ اس سازش کی گہرائی تک پہنچنے کے لئے سبھی وسائل لگائے جائیں گے اور اس کے پیچھے کے سازش کرنے والوں کو بخشا نہیں جائے گا۔
بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ حادثے میں جن اہل خانہ نے اپنے عزیزوں کو گنوایا ہے، پورا ملک ان کے غم میں شریک ہے۔ انہوں نے سوگوار خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔ سیکورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مکمل اختیار دیا گیا ہے کہ وہ مجرموں کی نشاندہی کریں اور اس دھماکہ میں شامل قصورواروں کے خلاف سخت ترین ممکنہ کارروائی کو یقینی بنانے کے لئے منصفانہ اور فوری تحقیقات کو یقینی بنائیں۔
نریندرمودی نے کہا کہ آج کا دن بھوٹان، اس کے شاہی خاندان اور عالمی امن میں یقین رکھنے والے تمام لوگوں کے لئے بہت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور بھوٹان کے درمیان صدیوں سے خوشگوار، روحانی اور ثقافتی تعلقات رہے ہیں جو دونوں ممالک کی مشترکہ وراثت کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس تاریخی موقع پر شرکت کرنا نہ صرف ہندوستان کے لئے بلکہ ان کے لئے بھی ایک عزم اور عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ہمیشہ بھوٹان کے ساتھ کھڑا رہے گا اور وقت کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔
دہلی میں لال قلعہ کے پاس کار میں دھماکہ کی شدت اتنی خطرناک تھی کہ آس پاس موجود دیگر گاڑیوں اور لوگوں کے پرخچے اڑ گئے۔ اب تک اس حادثہ میں مہولین کی تعداد 12 ہوگئی ہے۔ پولیس نے منگل کو یہ جانکاری دی ہے۔ وہیں 20 سے زیادہ لوگ زخمی ہیں، جن کا اسپتال میں علاج جاری ہے۔ ان میں سے کئی لوگوں کی حالت سنگین ہے۔ واضح رہے کہ لال قلعہ میٹرو کے گیٹ نمبر ایک کے پاس سست رفتار سے چل رہی ایک کار میں زبردست دھماکہ ہوا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ کے لئے
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔