امریکا کا غزہ میں فوجی موجودگی سے انکار، مگر بین الاقوامی افواج کی تعیناتی کی تیاری
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
واشنگٹن:
پینٹاگون کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے گزشتہ روز اس بات کی تصدیق کی کہ امریکا غزہ کی پٹی میں کوئی فوجی نہیں بھیجے گا۔
تاہم انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ بین الاقوامی افواج کو فلسطینی علاقے کے قریب تعینات کرنے کے لیے منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
پینٹاگون کے عہدیدار نے کہا کہ اسرائیلی میڈیا میں گردش کرنے والی رپورٹیں غلط ہیں تاہم اس نے اس بات کا بھی اشارہ دیا کہ امریکا اور اس کے عالمی فوجی اتحادی مل کر غزہ کے علاقے کے قریب بین الاقوامی فوجی دستوں کو تعینات کرنے کے آپشنز پر کام کر رہے ہیں۔
ان افواج کو انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس کے تحت تعینات کیا جائے گا جو امریکی صدر کی غزہ امن منصوبے کی حمایت کریں گی۔
عہدیدار نے وضاحت کی کہ کسی امریکی فوجی کو غزہ میں تعینات نہیں کیا جائے گا، جو کچھ بھی اس کے برعکس رپورٹ کیا جا رہا ہے وہ غلط ہے۔
اس سے پہلے اسرائیلی میڈیا میں یہ رپورٹیں سامنے آئی تھیں کہ امریکا غزہ کی سرحد کے قریب 500 ملین ڈالر کی لاگت سے ایک فوجی اڈہ قائم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جس میں کئی ہزار امریکی فوجیوں کی تعیناتی کی گنجائش ہو گی۔
غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ 10 اکتوبر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ 20 نکاتی منصوبے کی بنیاد پر نافذ کیا گیا تھا۔
آئی ایس ایف اس منصوبے کا اہم حصہ ہے، جو غزہ میں اسرائیل کی واپسی کے دوران استحکام کی کوششوں میں مدد فراہم کرے گا۔
غزہ ہیلتھ وزارت کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 2023 سے اب تک 69,000 سے زائد فلسطینی شہید اور 170,600 سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔