امریکہ اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کے عمل میں ہماری مدد کر رہا ہے، الجولانی
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
امریکی نشریاتی ادارے کیساتھ گفتگو میں الجولانی نے بتایا کہ ہم نے شام میں سرمایہ کاری کے مواقع پر بات کی تاکہ شام کو ایک سیکیورٹی تھریٹ کے بجائے ایک اسٹریٹیجک اتحادی کے طور پر دیکھا جائے، اسرائیل نے جولان پر قبضہ کر رکھا ہے اور ہم فی الحال اس کے ساتھ براہِ راست مذاکرات نہیں کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ شام کی عبوری حکومت کے سربراہ احمد الشرع نے ایک امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں کہا کہ واشنگٹن ان کی حکومت کو اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات تک پہنچنے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔ خبر رساں ادارہ تسنیم کے بین الاقوامی شعبے کے مطابق احمد الشرع المعروف ابومحمد الجولانی اس وقت امریکہ کے دورے پر ہیں۔ انہوں نے فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ شام ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے اور اس مرحلے میں وہ امریکہ کے ساتھ ایک نئی حکمتِ عملی تشکیل دے گا، ہم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے شام کے مستقبل اور پابندیوں کے خاتمے کے بارے میں گفتگو کی ہے۔
الجولانی نے یہ بھی بتایا کہ ہم نے شام میں سرمایہ کاری کے مواقع پر بات کی تاکہ شام کو ایک سیکیورٹی تھریٹ کے بجائے ایک اسٹریٹیجک اتحادی کے طور پر دیکھا جائے، اسرائیل نے جولان پر قبضہ کر رکھا ہے اور ہم فی الحال اس کے ساتھ براہِ راست مذاکرات نہیں کریں گے، تاہم، امریکہ ہمیں اسرائیل کے ساتھ کسی نوعیت کے مذاکرات تک پہنچنے میں مدد کر سکتا ہے، روس کے ساتھ ہونے والی بعض بات چیت میں اُن افراد کی حوالگی پر بھی گفتگو ہوئی ہے جو مطلوب فہرست میں شامل ہیں، جن میں سابق صدر بشار الاسد بھی شامل ہیں، مگر روس کا اس معاملے پر ایک مختلف مؤقف ہے۔
واضح رہے کہ عبرانی اخبار ہارٹز نے اتوار کی دوپہر ایک رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شام اور اسرائیل کے درمیان ایک جامع معاہدے کے لیے آخری اقدامات مکمل کر رہے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق، اس جامع معاہدے کا ایک اہم پہلو اسرائیل کے ساتھ سیکیورٹی مفاہمت ہے، اور اس کے نتیجے میں شام ابراہام اکارڈ میں شمولیت اختیار کرے گا، یہ معاہدہ جو ابھی حتمی مذاکرات کے مرحلے میں ہے، شام میں استحکام پیدا کرنے اور اسے ایک وسیع تر علاقائی سیکیورٹی فریم ورک میں شامل کرنے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے، شام داعش مخالف بین الاقوامی اتحاد میں شمولیت اختیار کرے گا اور امریکی ثالثی کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو معمول پر لانے کے عمل کا آغاز کرے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسرائیل کے ساتھ اور اس
پڑھیں:
ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے امکانات روشن ہیں اور ایران بعض ایسے نکات پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو گیا ہے جن پر وہ ماضی میں گفتگو سے انکار کرتا رہا تھا تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ مذاکرات کسی قابل قبول معاہدے پر منتج ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض پہلوؤں پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے جو چند ماہ قبل تک ممکن نہیں سمجھی جا رہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ایران ایسے معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہوا ہے جن کا ذکر کرنے سے بھی وہ پہلے گریز کرتا تھا تاہم یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ بالآخر کوئی ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔
روبیو کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔
تاہم امریکی وزیر خارجہ کی امید افزا باتیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں نئی رکاوٹیں پیدا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران نے ثالثوں کے ساتھ رابطے معطل کر دیے ہیں۔
ادھر امریکا کی میزبانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی مذاکرات کا نیا دور بھی جاری ہے جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پہلے سے موجود نازک جنگ بندی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔
مزید پڑھیے: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
مارکو روبیو نے کانگریس میں 2 روزہ بریفنگ کے دوران ایران، مشرق وسطیٰ، کیوبا، غیر ملکی امداد اور دیگر خارجہ پالیسی امور پر قانون سازوں کے سوالات کے جوابات دیے۔
ایران جنگ پر سوالاتکانگریس میں اپنی پہلی عوامی پیشی کے دوران روبیو کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق سخت سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
متعدد ڈیموکریٹ ارکان نے جنگ کے آغاز سے قبل کانگریس کی منظوری نہ لینے پر تنقید کی جبکہ بیشتر ریپبلکن ارکان نے ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے پر بھی بحث جاری ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب انہوں نے ماضی میں مشرق وسطیٰ میں طویل جنگوں سے گریز کا وعدہ کیا تھا۔
جنگ کے معاشی اثراتایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا
ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے اس لیے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
کیوبا سے متعلق بھی سخت مؤقفمارکو روبیو کو سماعت کے دوران کیوبا کے حوالے سے بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ سماعت کے آغاز پر چند مظاہرین نے ’کیوبا کو جینے دو‘ اور ’کیوبن عوام کا قتل بند کرو‘ جیسے نعرے لگائے جنہیں بعد ازاں کمرے سے باہر نکال دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: ایران ڈیل کے قریب ہیں، مگر جلد بازی نقصان دہ ہوگی، صدر ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ
روبیو، جو کیوبن تارکین وطن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، طویل عرصے سے کیوبا کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیوبا کے امریکا کے مخالف ممالک کے ساتھ تعلقات واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔
امریکی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو کے خلاف فوجداری الزامات بھی عائد کیے ہیں جس پر کیوبا کی حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ تیار، ٹرمپ کی منظوری باقی، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ
مارکو روبیو بدھ کے روز بھی کانگریس کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے پیش ہو کر امریکی محکمہ خارجہ کے بجٹ اور خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر بریفنگ دیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ایران امریکا تنازع ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا معاہدہ