امریکی نشریاتی ادارے کیساتھ گفتگو میں الجولانی نے بتایا کہ ہم نے شام میں سرمایہ کاری کے مواقع پر بات کی تاکہ شام کو ایک سیکیورٹی تھریٹ کے بجائے ایک اسٹریٹیجک اتحادی کے طور پر دیکھا جائے، اسرائیل نے جولان پر قبضہ کر رکھا ہے اور ہم فی الحال اس کے ساتھ براہِ راست مذاکرات نہیں کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ شام کی عبوری حکومت کے سربراہ احمد الشرع نے ایک امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں کہا کہ واشنگٹن ان کی حکومت کو اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات تک پہنچنے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔ خبر رساں ادارہ تسنیم کے بین الاقوامی شعبے کے مطابق احمد الشرع المعروف ابومحمد الجولانی اس وقت امریکہ کے دورے پر ہیں۔ انہوں نے فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ شام ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے اور اس مرحلے میں وہ امریکہ کے ساتھ ایک نئی حکمتِ عملی تشکیل دے گا، ہم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے شام کے مستقبل اور پابندیوں کے خاتمے کے بارے میں گفتگو کی ہے۔

الجولانی نے یہ بھی بتایا کہ ہم نے شام میں سرمایہ کاری کے مواقع پر بات کی تاکہ شام کو ایک سیکیورٹی تھریٹ کے بجائے ایک اسٹریٹیجک اتحادی کے طور پر دیکھا جائے، اسرائیل نے جولان پر قبضہ کر رکھا ہے اور ہم فی الحال اس کے ساتھ براہِ راست مذاکرات نہیں کریں گے، تاہم، امریکہ ہمیں اسرائیل کے ساتھ کسی نوعیت کے مذاکرات تک پہنچنے میں مدد کر سکتا ہے، روس کے ساتھ ہونے والی بعض بات چیت میں اُن افراد کی حوالگی پر بھی گفتگو ہوئی ہے جو مطلوب فہرست میں شامل ہیں، جن میں سابق صدر بشار الاسد بھی شامل ہیں، مگر روس کا اس معاملے پر ایک مختلف مؤقف ہے۔

واضح رہے کہ عبرانی اخبار ہارٹز نے اتوار کی دوپہر ایک رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شام اور اسرائیل کے درمیان ایک جامع معاہدے کے لیے آخری اقدامات مکمل کر رہے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق، اس جامع معاہدے کا ایک اہم پہلو اسرائیل کے ساتھ سیکیورٹی مفاہمت ہے، اور اس کے نتیجے میں شام ابراہام اکارڈ میں شمولیت اختیار کرے گا، یہ معاہدہ جو ابھی حتمی مذاکرات کے مرحلے میں ہے، شام میں استحکام پیدا کرنے اور اسے ایک وسیع تر علاقائی سیکیورٹی فریم ورک میں شامل کرنے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے، شام داعش مخالف بین الاقوامی اتحاد میں شمولیت اختیار کرے گا اور امریکی ثالثی کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو معمول پر لانے کے عمل کا آغاز کرے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اسرائیل کے ساتھ اور اس

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ