ہم اس ترمیم کا حصہ نہیں، نہ ساتھ دینگے: سلمان اکرم راجہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ—فائل فوٹو
پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ ہم اس ترمیم کا حصہ نہیں ہیں، نہ ہم اس حوالے سے ساتھ دیں گے۔
راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کو بتائیں گے کہ پاکستان میں جمہوریت کے نام پر ڈھونگ رچایا گیا ہے۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ ریاست آئین اور قانون کا نام ہے، ہم پاکستان کے آئین اور عوام کو مقدم رکھتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ اب وکیلوں کی جنگ نہیں عورتوں، بچوں، بزرگوں، ہر ایک کی جنگ ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ہم نے سخت رویہ نہیں رکھا، یہاں قانون کے مطابق ملاقات کے لیے آئے ہیں، عدالتیں اپنے فیصلوں پر عمل درآمد نہیں کراتیں۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ایک قیدی کا اپنے وکیل سے ملنا اس کا حق ہے، عدالت اگر کسی کو نہیں بلاتی تو عدالت اس میں شامل ہے۔
سلمان اکرم راجہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگلا لائحہ عمل یہی ہو گا کہ ہم سڑکوں پر نکلیں گے، پورے پاکستان کو نکلنا ہو گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سلمان اکرم راجہ
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔