صحافی تشدد کیس، ضمانت مسترد ہونے پر ایس ایچ او عدالت سے فرار
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹھٹھہ (نمائندہ جسارت) ٹائون چیئرمن اقبال خاصخیلی اور صحافی یوسف شاھین تشدد کیس میں ضمانت مسترد ہونے کے بعد ایس ایچ او عدالت کے احاطے سے فرار ہوگیا۔ تفصیلات کے مطابق چند ماہ قبل میرپور ساکرو کے ٹاؤن چیئرمین اقبال خاصخیلی اور مقامی صحافی یوسف شاہین کی گرفتاری کے دوران ان پر کیے گئے مبینہ تشدد کے مقدمے میں نامزد مکلی تھانے کے سابق ایس ایچ او مختیار کلہو?و کی ضمانت سیشن جج ٹھٹھہ کی عدالت نے مسترد کر دی۔ضمانت مسترد ہونے کے بعد ملزم مختیار کلہو?و عدالت کے احاطے سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا ہیذرائع کے مطابق، سابق ایس ایچ او مختیار کلہو?و نے گرفتاری سے قبل عارضی (عبوری) ضمانت حاصل کر رکھی تھی، جس کی تصدیق (پکی ضمانت) کے لیے عدالت میں سماعت جاری تھے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ٹھٹھہ محترمہ مشتری خانم کی عدالت میں فریقِ مدعی کی جانب سے سینئر وکیل ایڈووکیٹ اعجاز جما?? نے دلائل پیش کیے۔دلائل سننے کے بعد عدالت نے سابق اور معطل ایس ایچ او مختیار کلہوو کی ضمانت منسوخ کر دی۔ضمانت مسترد ہونے کے فوراً بعد مختیار کلہوو عدالت کے احاطے سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔معطل ایس ایچ او کی ضمانت مسترد ہونے اور اس کے فرار ہونے کے بعد، ایف آئی اے کرائم سرکل حیدرآباد کی ایک خصوصی ٹیم نے اس کی گرفتاری کے لیے چھاپوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ضمانت مسترد ہونے ایس ایچ او کی ضمانت ہونے کے کے بعد
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔