data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ٹھٹھہ (نمائندہ جسارت) ٹائون چیئرمن اقبال خاصخیلی اور صحافی یوسف شاھین تشدد کیس میں ضمانت مسترد ہونے کے بعد ایس ایچ او عدالت کے احاطے سے فرار ہوگیا۔ تفصیلات کے مطابق چند ماہ قبل میرپور ساکرو کے ٹاؤن چیئرمین اقبال خاصخیلی اور مقامی صحافی یوسف شاہین کی گرفتاری کے دوران ان پر کیے گئے مبینہ تشدد کے مقدمے میں نامزد مکلی تھانے کے سابق ایس ایچ او مختیار کلہو?و کی ضمانت سیشن جج ٹھٹھہ کی عدالت نے مسترد کر دی۔ضمانت مسترد ہونے کے بعد ملزم مختیار کلہو?و عدالت کے احاطے سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا ہیذرائع کے مطابق، سابق ایس ایچ او مختیار کلہو?و نے گرفتاری سے قبل عارضی (عبوری) ضمانت حاصل کر رکھی تھی، جس کی تصدیق (پکی ضمانت) کے لیے عدالت میں سماعت جاری تھے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ٹھٹھہ محترمہ مشتری خانم کی عدالت میں فریقِ مدعی کی جانب سے سینئر وکیل ایڈووکیٹ اعجاز جما?? نے دلائل پیش کیے۔دلائل سننے کے بعد عدالت نے سابق اور معطل ایس ایچ او مختیار کلہوو کی ضمانت منسوخ کر دی۔ضمانت مسترد ہونے کے فوراً بعد مختیار کلہوو عدالت کے احاطے سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔معطل ایس ایچ او کی ضمانت مسترد ہونے اور اس کے فرار ہونے کے بعد، ایف آئی اے کرائم سرکل حیدرآباد کی ایک خصوصی ٹیم نے اس کی گرفتاری کے لیے چھاپوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

نمائندہ جسارت گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ضمانت مسترد ہونے ایس ایچ او کی ضمانت ہونے کے کے بعد

پڑھیں:

کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار

سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔

عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔

3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔

عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔

ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔

دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔

تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔

عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • کراچی: بھینس کالونی میں شادی کی تقریب میں ہوائی فائرنگ، دلہا گرفتار
  • مردان قتل کیس: ملزمان مغوی بچوں کو چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار، تحقیقات جاری
  • مردان: 3 افراد کو قتل کرنیوالے ملزمان انکے 2 بچے چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار
  • گلشن اقبال میں تیز رفتار ڈمپر الٹ گیا، شہری معجزانہ طور پر محفوظ، مشتعل افراد کا کلینر پر تشدد
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں