سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ندیم قمر کے دور میں 45عدالتی مقدمات پر9کروڑ 38لاکھ خرچ
موجودہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر طاہر صغیر نے عدالتی معاملات میںاب تک ڈیڑھ کروڑ پھونک دیے

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر ڈیزیز (NICVD)کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرزکی سنگین نااہلی اور غفلت پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے ، جس کے نتیجے میں عوامی خزانے کو 10کروڑ روپے سے زائد کا بھاری نقصان پہنچا ہے ۔ باوثوق اندرونی ذرائع کے مطابق سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ندیم قمر کے دور میں 45عدالتی مقدمات اور متعلقہ معاملات پر تقریباً 9کروڑ 38لاکھ روپے خرچ کیے گئے ۔جبکہ موجودہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر طاہر صغیر نے اسی مد میں تقریباً 1 کروڑ 50 لاکھ روپے خرچ کیے ہیں، حالانکہ صرف 10 مقدمات رپورٹ ہوئے ہیں۔ماہرین اور مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ عوامی فنڈز کے کھلم کھلا غلط استعمال کی ایک واضح مثال ہے ۔ یہ رقم مریضوں کی نگہداشت، عملے کی فلاح و بہبود، یا ادارے کی ترقی پر استعمال کی جا سکتی تھی۔ قانونی اخراجات میں مسلسل اضافہ اور انتظامی بدانتظامی ادارے کے اندر گہرے نظم و نسق کے مسائل کو ظاہر کرتی ہے ۔یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ این آئی سی وی ڈی ایک سرکاری ادارہ ہے اور سندھ حکومت ایسے اداروں کی نمائندگی کے لیے سرکاری وکلاء مفت فراہم کرتی ہے ۔ اس کے باوجود دونوں ایگزیکٹو ڈائریکٹرز کے حوالے سے نجی قانونی فرموں یا وکلاء کی خدمات حاصل کرنا اور عوامی فنڈز کی بھاری رقم خرچ کرنا شفافیت اور احتساب پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے ۔طبی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سندھ حکومت اور اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ فوراً ایک شفاف انکوائری شروع کرے تاکہ ان غیر ضروری قانونی اخراجات کی مکمل جانچ پڑتال کی جا سکے اور ذمہ دار افسران کے خلاف مالی بدانتظامی پر کارروائی کی جا سکے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر

پڑھیں:

سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان

مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث

شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔

متعلقہ مضامین

  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے