صبا قمر نے معروف صحافی کو 10 کروڑ روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس بھیج دیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
اداکارہ صبا قمر نے ایک معروف صحافی کے مبینہ توہین آمیز اور بے بنیاد الزامات کے خلاف انہیں 10 کروڑ روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس بھیج دیا ہے۔
یہ معاملہ اُس وقت شروع ہوا جب صحافی نعیم حنیف نے ایک پوڈکاسٹ میں دعویٰ کیا کہ صبا قمر ماضی میں لاہور کے علاقے والٹن میں اُس گھر میں رہتی تھیں جو مبینہ طور پر ایک شخص نے انہیں فراہم کیا تھا۔
صبا قمر نے اس بیان کی سختی سے تردید کرتے ہوئے اپنے انسٹاگرام پر پوڈکاسٹ کا اسکرین شاٹ شیئر کیا اور کہا کہ اُن پر لگایا گیا الزام جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔ انہوں نے لکھا کہ نہ تو وہ کبھی والٹن میں رہیں اور نہ ہی ان کے خلاف کی گئی باتوں میں کوئی صداقت ہے۔ اداکارہ نے یہ بھی کہا کہ کسی کی کردار کشی کرنا ایک سنگین جرم ہے۔
بعد ازاں صبا قمر نے اپنے وکلا کے ذریعے صحافی اور متعلقہ یوٹیوب چینل کو قانونی نوٹس بھیج دیا۔ نوٹس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سات دن کے اندر عوامی معافی مانگی جائے اور متنازعہ مواد ہٹایا جائے، بصورت دیگر قانونی کارروائی کی جائے گی۔
صبا قمر نے مداحوں اور شوبز انڈسٹری سے اپیل کی کہ وہ بھی خود پر لگنے والے جھوٹے الزامات کے خلاف آواز اٹھائیں اور اپنی عزت کے تحفظ کے لیے کھڑے ہوں۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔