صبا قمر نے الزامات عائد کرنے پر صحافی کیخلاف قانونی کارروائی کا اعلان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
اداکارہ صبا قمر نے سینئر صحافی کیخلاف سنگین الزامات پر قانونی کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ان دنوں اداکارہ صبا قمر اپنے دو ڈراموں ’پامال‘ اور ’کیس نمبر ‘9 کے باعث خبروں میں ہیں۔ حال ہی میں ان کے کراچی سے متعلق ایک بیان پر بھی سوشل میڈیا پر بحث جاری تھی، جس کے بعد ایک صحٓفی نے ان کے بارے میں متنازع دعوے کیے ہیں جس نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
View this post on InstagramA post shared by Showbiz Spy (@showbizspy_)
مذکورہ صحافی نے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا کہ صبا قمر 2003-2004 میں لاہور میں ایک ایسے گھر میں رہتی تھیں جو مبینہ طور پر ان کے کسی ’قریبی تعلق‘ والے شخص کا تھا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ صبا اس شخص کی ہراسانی کے باعث نجی خبر رساں ادارے؎ کے دفتر شکایت کے لیے آئی تھیں، جہاں ان کی پہلی ملاقات ہوئی۔
صبا قمر نے صحافی کے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ ایسے جھوٹے دعووں کیلئے ان کیخلاف قانونی چارہ جوئی کریں گی۔
سوشل میڈیا صارفین پر بڑی تعداد نے صبا قمر کے اس فیصلے کی حمایت کی ہے۔ ایک صارف نے لکھا، ’بہترین فیصلہ، ایسے لوگوں کو عدالت میں جواب دینا چاہیے۔‘ ایک اور صارف نے لکھا کہ ’یہ شخص پہلے شعیب ملک کے حوالے سے بھی بیانات دے چکا ہے‘۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔