کراچی: اسکیم 33 کی نجی سوسائٹی کے متاثرین کو پلاٹس نہ ملنے پر عدالت برہم
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
کراچی میں اسکیم 33 کی نجی سوسائٹی کے 650 متاثرین کو پلاٹس نہ ملنے کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران سندھ ہائیکورٹ نے برہمی کا اظہار کیا۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ افسوس ہے کہ متاثرین کا کیس سات سالوں سے زیرِ التواء ہے، 2020 میں کہا گیا تھا کہ متاثرین کو پلاٹس فراہم کیے جائیں گے، لیکن پانچ سال گزر جانے کے باوجود وہ اب تک اپنے پلاٹس حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
عدالت نے مزید کہا کہ متاثرین میں عمر رسیدہ افراد بھی شامل ہیں جو چاہتے ہیں کہ ان کا مسئلہ جلد از جلد حل ہو۔
سندھ ہائیکورٹ نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر آئندہ سماعت تک متاثرین کو پلاٹس کا قبضہ نہ ملا تو ملزمان کی عبوری ضمانت واپس لے لی جائے گی۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 18 نومبر تک ملتوی کردی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: متاثرین کو پلاٹس
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔