Daily Mumtaz:
2026-06-03@08:51:23 GMT
بھکر میں قرض کی رقم واپس نہ کرنے پر مقروض کی 4 سالہ بیٹی کا اغوا
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
پنجاب کے ضلع بھکر کی تحصیل کلورکوٹ میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں قرض کی رقم واپس نہ کرنے پر قرض خواہ نے مقروض کی 4 سالہ بیٹی کو اغوا کرلیا۔
پولیس کے مطابق ظہیر نامی شخص نے مبینہ طور پر بچی کو گھر کے باہر سے اغوا کیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بچی کے والد نے ظہیر نامی شخص سے رقم ادھار لے رکھی تھی، اور جب رقم واپس نہ کی جا سکی تو ملزم نے انتقامی کارروائی کرتے ہوئے معصوم بچی کو اٹھا لیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈی پی او بھکر نے بتایا کہ ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں، اور بچی کی جلد بازیابی پولیس کی اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملزم کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام ہو سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔