بھکر میں اغوا کا واقعہ، قرض تنازع نے معصوم جان کو خطرے میں ڈال دیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
پنجاب کے ضلع بھکر کی تحصیل کلورکوٹ میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں قرض کی رقم واپس نہ کرنے پر قرض خواہ نے مقروض کی 4 سالہ بیٹی کو اغوا کرلیا۔
پولیس کے مطابق ظہیر نامی شخص نے مبینہ طور پر بچی کو گھر کے باہر سے اغوا کیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بچی کے والد نے ظہیر نامی شخص سے رقم ادھار لے رکھی تھی، اور جب رقم واپس نہ کی جا سکی تو ملزم نے انتقامی کارروائی کرتے ہوئے معصوم بچی کو اٹھا لیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈی پی او بھکر نے بتایا کہ ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں، اور بچی کی جلد بازیابی پولیس کی اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملزم کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام ہو سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اغوا انتقامی کارروائی بچی بھکر پنجاب پولیس ڈی پی او بھکر کلورکوٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اغوا انتقامی کارروائی بچی بھکر پولیس کلورکوٹ
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔