کراچی:نادرن بائی پاس پر پلاسٹک کے گودام میں آگ لگ گئی، 1 شخص جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
کراچی میں نادرن بائی پاس کے قریب پلاسٹک کے گودام میں آگ لگ گئی، 7 فائر ٹینڈرز اور واٹر باوزر آگ بجھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔فائر بریگیڈ حکام کے مطابق گودام وسیع رقبے پر پھیلا ہوا ہے اس لیے یہ نہیں بتایا جاسکتا کہ آگ پر قابو پانے میں مزید کتنا وقت درکار ہوگا۔حکام کا کہنا ہے کہ خوش قسمتی سے آگ کے سبب کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔دوسری جانب کراچی کے علاقے گلشن اقبال شانتی نگر میں جھونپڑیوں میں آگ لگنے سے ایک شخص جاں بحق ہو گیا۔فائر بریگیڈ حکام نے بتایا کہ ریسکیو آپریشن کے دوران جھونپڑیوں سے ایک شخص کی لاش ملی ہے جس کی شناخت ایوب کے نام سے ہوئی۔ آگ لگنے کے باعث 20 جھونپڑیاں جل گئیں۔ دوفائرٹینڈرز کی مدد سے آگ پر قابوپالیا گیا، ابتدائی طور پر آگ لگنے کی وجہ معلوم نہ ہوسکی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔