جامعہ کراچی کے عقب میں جھاڑیوں میں آتشزدگی، شہری جاں بحق، دو زخمی
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
کراچی (نیوزڈیسک) جامعہ کراچی کے عقب میں جھاڑیوں میں آتشزدگی سے ایک شخص جاں بحق جبکہ دو زخمی ہوگئے۔
جاں بحق شخص کی شناخت 52 سالہ رفیق کے نام سے ہوئی ہے، آگ پر قابو پالیا گیا، فائر بریگیڈ کی نو گاڑیوں اور 2 باؤزر نے ریسکیو آپریشن میں حصہ لیا، آگ نے جامعہ کراچی سے منسلک دیوار کے قریب چند جھگیوں کو بھی نقصان پہنچایا۔
آگ اس قدر شدید تھی کہ اس کے شعلے کئی فٹ بلند اور دور دور سے نظر آرہے تھے جبکہ جھاڑیوں کے قریب جگیاں بھی بنی ہوئیں تھیں، ریسکیو 1122 کے رضاکاروں نے ہنگامی اقدامات کر کے جگیوں سے آبادی کے انخلا کو یقینی بنایا جبکہ فائر بریگیڈ کی 8 گاڑیوں نے آگ بجھانے کیلیے اقدامات کیے۔
ہوا کی وجہ سے آگ کراچی یونیورسٹی کی سٹاف کالونی تک پھیلی جس کی وجہ سے چند گھر متاثر بھی ہوئے جبکہ قریب میں موجود قبرستان تک بھی اس کے شعلے پہنچے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق دھوئیں کی وجہ سے دو لوگوں کی حالت غیر ہوئی جنہیں فوری طبی امداد کیلئے ہسپتال منتقل کیا گیا، فائر بریگیڈ حکام نے تین گھنٹے کی جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پا لیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک