data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے نائب امیر کراچی و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈووکیٹ کے ساتھ ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ ای چالان سسٹم کے نام پر عوام کو لوٹا جا رہا ہے۔ کل ہی اس نظام کے افتتاح کے بعد صرف 6 گھنٹے میں سوا کروڑ روپے کے چالان کیے گئے۔ کراچی کی سڑکیں کچے کے علاقوں سے بھی بدتر ہیں لیکن جرمانے عالمی معیار کے مقرر کیے جا رہے ہیں۔ پنجاب میں یہی جرمانے 10 گنا کم ہیںجبکہ سندھ حکومت عوام کو شعور دینے کے بجائے صرف جرمانوں سے خزانہ بھرنے میں لگی ہے۔رواں سال کراچی میں 700 شہری ٹریفک حادثات میں جاں بحق ہوچکے ہیں اور 10 ہزار سے زاید زخمی ہوئے ہیں۔ بھاری گاڑیوں کی وجہ سے 205 اموات ہوئیں۔ ٹینکر، ٹرالر اور ڈمپر عوام کے لیے موت کا پروانہ بن چکے ہیں۔ حکومت سے مطالبہ ہے کہ ٹریفک کے نظام اور ای چالان کے سسٹم کا از سر نو جائزہ لیا جائے ۔انہوں نے کے الیکٹرک کی نااہلی و ناقص کارکردگی کے حوالے سے کہا ہے کہ نیپرا کی جانب سے جماعت اسلامی کی نظر ثانی اپیل پر بجلی کا ٹیرف 7 روپے 60 پیسے کم کیے جانے کے بعد کے الیکٹرک کی چیخیں بلند ہونا شروع ہوگئی ہیں۔گزشتہ 20برس میں عوام پر بجلی کے بم گرانے والا سب سے بڑا پاور سیکٹر مافیا بن چکا ہے، سی ای او مونس علوی لوڈشیڈنگ اور بلیک آؤٹ کی دھمکیاں دے کر عوام کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔کے الیکٹرک اب قومی خزانے پر بوجھ بن چکی ہے، اس کے لائن لوسز ملک کی سرکاری ڈسکوز سے بھی زیادہ ہیں۔ جماعت اسلامی نے پہلے دن سے اس ادارے کے مظالم کے خلاف آواز بلند کی ہے، ہم عدالتوں اور نیپرا کی سماعتوں میں عوام کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ کراچی کو ظالمانہ لوڈشیڈنگ سے نجات دی جائے، بلوں میں شامل بھاری ٹیکسز ختم کیے جائیں اور کے الیکٹرک کا فرانزک آڈٹ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک کی نجکاری اس وعدے کے ساتھ کی گئی تھی کہ عوام کو سستی بجلی اور لوڈشیڈنگ سے نجات ملے گی، مگر آج اس موسم میں بھی 18،18گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے۔ پچھلے 20 سال میں کے الیکٹرک کو 900 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی۔ اگر جماعت اسلامی کی اپیل پر ٹیرف میں کمی نہ کی جاتی تو ہر سال 127 ارب روپے مزید کے الیکٹرک کو سبسڈی کی مد میں دیے جاتے۔ یہ کامیابی کراچی کے عوام کی ہے۔انہوں نے ریڈ لائن منصوبے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبہ اہل کراچی کے لیے خطرے کی علامت بن چکا ہے۔ چند دن قبل صفورہ ٹاؤن کا20سالہ نوجوان دانش جیوانی، 6ماہ پہلے یونیورسٹی روڈ پر بی آر ٹی کے گڑھے میں گرکر کومے میں چلاگیا اس کے چند دن بعد نوجوان اپنی جان سے ہاتھ دھوبیٹھا۔ ریڈ لائن کے اطراف سڑکیں تباہ ہیں، گٹر بہہ رہے ہیں، مین ہول کھلے ہوئے ہیں اور ملبے کے ڈھیر نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔503 ملین امریکی ڈالر کے اس منصوبے کی تکمیل کی کوئی ڈیڈ لائن نہیں۔ جماعت اسلامی کی ریڈ لائن کے حوالے سے تحریک جاری ہے، ٹرانس کراچی کے حکام سے ملاقاتیں اور عوامی رابطہ مہم تسلسل سے جاری ہے۔منعم ظفر خان نے کہا کہ قابض میئر کے وعدے کو یاد دلاتے ہوئے کہاکہ مرتضیٰ وہاب نے 60 دن میں مرمت کا وعدہ کیا تھا، مگر وہ کبھی جاپان اور کبھی دبئی میں مصروف دکھائی دیتے ہیںجبکہ جہانگیر روڈ سمیت پورا شہر کھنڈر کا منظر پیش کر رہا ہے۔ سڑکوں میں گڑھے ہیں، پانی جمع ہے، کریم آباد انڈر پاس، 7000 فٹ روڈ، اور ایم ایم عالم روڈ تباہ حال ہیں۔ منعم ظفر خان نے کہا کہ 21، 22 اور 23 نومبر کو لاہور میں جماعت اسلامی کا اجتماع عام‘‘بدل دو نظام ‘‘کے عنوان سے منعقد کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے عوامِ پاکستان، بالخصوص اہل کراچی سے اپیل کی کہ وہ اپنی فیملیز کے ہمراہ اس اجتماع میں بھرپور شرکت کریں اور ظلم کے اس نظام کے خلاف جماعت اسلامی کی جدوجہد کا حصہ بنیں۔پریس کانفرنس میں نائب امیر کراچی راجا عارف سلطان ،ڈپٹی سیکرٹری یونس بارائی ، سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری،پبلک ایڈکمیٹی کے سیکرٹری نجیب ایوبی اورنائب صدر وانچارج کے الیکٹرک سیل عمران شاہد بھی موجود تھے ۔

امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں

 

اسٹاف رپورٹر سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کی کے الیکٹرک انہوں نے ریڈ لائن عوام کو

پڑھیں:

موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل

لاہور میں رات گئے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے بعد اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے باعث متعدد رہائشی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا جبکہ نشیبی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہونے، ٹریفک جام اور سیوریج نظام مفلوج ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔شہر میں رات گئے شروع ہونے والی بارش وقفے وقفے سے جاری ہے، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ کینٹ، ڈیفنس اور والٹن سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ کئی مقامات پر گھروں میں بھی پانی داخل ہوگیا۔لاہور کینٹ میں موسلادھار بارش کے باعث سیوریج سسٹم جواب دے گیا، جس سے علی ویو گارڈنز، علی پارک، نادرا آباد اور دیگر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا۔ مقامی افراد کے مطابق بیشتر علاقے ندی نالوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔دوسری جانب ڈیفنس فیز تھری کے اے، بی اور سی بلاکس میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ والٹن روڈ اور کیولری گراؤنڈ میں سڑکیں مکمل طور پر زیر آب آگئیں۔ کیولری گراؤنڈ کی مرکزی شاہراہ بھی پانی میں ڈوب گئی، جس کے باعث آمدورفت شدید متاثر رہی۔بارش کے بعد مین ڈیفنس روڈ پر بھی پانی جمع ہونے سے سڑک دریا کا منظر پیش کرنے لگی جبکہ ڈیفنس انڈر پاس بھی پانی سے بھر گیا۔ شہر کے مختلف حصوں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مسلسل بارش کے باعث لاہور کی بیشتر شاہراہیں جل تھل ہوگئیں جبکہ روزمرہ زندگی بری طرح متاثر رہی۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے نکاسی آب کے مؤثر انتظامات اور فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج دن پر وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہے گا، مون سون کی بارشوں کے باعث لاہور میں حبس اور گرمی کی شدت میں کمی آگئی ہے۔لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔لاہور میں سب سے زیادہ بارش ایئرپورٹ پر 262 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مناواں میں 200، تاجپور میں 151، کاہنہ میں 142، شادی پورہ میں 129 اور مغل پورہ میں 127 اور اپر مال پر 111 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔جوہر ٹاؤن میں 80، چوک ناخدا میں 60، نشتر ٹاؤن میں 54، اقبال ٹاؤن میں 51، گلبرگ میں 49، ڈیفنس روڈ 45، سمن آباد میں 29، جیل روڈ اور پانی والا تالاب 26، لکشمی چوک اور فرخ آباد میں 24، سگیاں میں 21 اور گلشن راوی میں 17 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ایم ڈی واسا لاہور غفران احمد نکاسی آب آپریشن کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے سبب اندرون اور بیرون ملک جانے اور آنے والی پروازیں متاثر ہوگئیں۔لاہور سے کراچی، دبئی، جدہ، ابو ظہبی، استنبول جانے اور آنے والی 6 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ شدید بارش سے پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر ہوئی۔ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو اپنی پروازوں کے بارے میں معلومات لیکر آنے کی ہدایت کی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی