ظلم کا نظام اب نہیں چلے گا، جاگیرداری نظام کا خاتمہ کریں گے، حافظ نعیم الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
گوجرہ/ٹوبہ ٹیک سنگھ:۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت کھاد، بیج، زرعی ادویات اور ٹیوب ویلوں کے لیے بجلی کی قیمتوں کو نصف کرے، گندم کی امدادی قیمت 45 سو روپے من مقرر کی جائے۔ سستا آٹا عوام کا اور اجناس کے بہتر نرخ کسان کا حق ہے اور دونوں کو یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
گوجرہ میں کسان بچاﺅ پاکستان بچاﺅ روڈ کاررواں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا کہ اقتدار میں آکر جماعت اسلامی جاگیرداری نظام کا خاتمہ کرے گی اور انگریزوں کی عطا کردہ زمینیں اور غیر آباد رقبے چھوٹے کسانوں، ہاریوں، غریبوں میں تقسیم کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کارپوریٹ فارمنگ کی بجائے مشترکہ کھیتی (cooperativefarming) کی حمایت کرتی ہے، زمینیں بڑی کمپنیوں کی نہیں، عام کسانوں کی ملکیت ہونی چاہیے۔
امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی جاوید قصوری، جنرل سیکرٹری پنجاب وسطی بابر رشید، صدر کسان بورڈ پاکستان سردار ظفر حسین امیر ٹوبہ ٹیک سنگھ ڈاکٹر عطا اللہ، امیر فیصل آباد محبوب الزمان بٹ، امیر جھنگ اور ڈاکٹر فرید مگھیانہ نے بھی شرکا کاررواں سے خطاب کیا۔ امیر جماعت اسلامی نے کسانوں اور زراعت کے لیے آواز اٹھانے پر کسان بورڈ کو مبارکباد دی۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی نے ماضی میں مختلف سیاسی پارٹیوں سے اتحاد بنائے، ماضی کے تجربات سے سیکھا ہے کہ اب اتحاد صرف اور صرف عوام، کسانوں، مزدوروں، نوجوانوں سے ہوگا، خواتین کے حق کے لیے بھرپور آواز اٹھار ہے ہیں، اقلیتوں کے محافظ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی عوام کے حقوق کے لیے نومبر میں نئے عزم اور پوری قوت سے مینار پاکستان پر تحریک کا آغاز کرے گی۔ کسانوں، مزدوروں کو تین روزہ اجتماع عام میں شرکت کی دعوت دیتا ہوں۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ موجودہ پارلیمنٹ میں بڑی تعداد فارم 47 والوں کی ہے، انہوں نے تو عوام کے لیے کیا آواز اٹھانی ہے فارم 45 والے بھی نہیں بول رہے، ملک پر ایک ہی طرح کے لوگ مسلط ہیں، ان طبقات نے ہر شعبہ کو تباہ کیا، پنجاب حکومت نے زراعت کو خصوصی طور پر برباد کیا ہے۔ صوبائی حکومت کا اس سے بڑا ظلم کیا ہوگا کہ کسان سے وعدہ کرکے اور امدادی قیمت کا تعین کرکے گندم نہیں خریدی گئی۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے کہاکہ وزیراعلیٰ جان لیں کہ محض اشتہارات سے عوام کو بے وقوف نہیں بنایا جاسکتا۔ ظلم کا نظام اب نہیں چلے گا، استحصالی معیشت، طبقاتی تعلیم، گلا سڑا عدالتی نظام بدلنا ہوگا، بلدیاتی نظام بااختیار ہوجائے تو بہت سے جھگڑے اور مسائل یونین کونسل سطح پر ہی ختم ہوسکتے ہیں۔ اللہ کی مدد و نصرت اور عوام کی تائید سے اقتدار میں آکر جماعت اسلامی اس پورے فرسودہ نظام کو تبدیل کرے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔