تحریک تحفظ آئین پاکستان کا کراچی اور حیدرآباد میں پاور شو کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
اجلاس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ ملک اس وقت سیاسی بحران اور بدانتظامی کی لپیٹ میں ہے، آئین پر عمل درآمد نہیں ہو رہا، ظلم، لاقانونیت اور بدانتظامی کے ذریعے حکمرانی کی جا رہی ہے اور اس صورتحال کے پیش نظر عوامی رابطہ مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ متعلقہ فائیلیںاسلام ٹائمز۔ تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان سندھ کی جانب سے 14 نومبر کو حیدرآباد میں جلسہ عام منعقد کرنے کا اعلان۔ یہ فیصلہ کراچی میں سندھ یونائیٹڈ پارٹی کی میزبانی میں تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان، صوبہ سندھ کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے صدر سید زین شاہ، سابق گورنر سندھ محمد زبیر، پاکستان تحریکِ انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ، مجلسِ وحدت مسلمین کے رہنما مولانا حیات عباس، مولانا صادق جعفری، علامہ مبشر حسن، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سرباز عبدالرب درانی، جے یو آئی (شیرانی) کے حافظ حماد مدنی و دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔
اجلاس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ ملک اس وقت سیاسی بحران اور بدانتظامی کی لپیٹ میں ہے، آئین پر عمل درآمد نہیں ہو رہا، ظلم، لاقانونیت اور بدانتظامی کے ذریعے حکمرانی کی جا رہی ہے اور اس صورتحال کے پیش نظر عوامی رابطہ مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اجلاس میں کہا گیا کہ آئین اور قانون کی حکمرانی کے نفاذ اور عوام کی خوشحالی کے لیے ملک گیر عوامی رابطہ مہم شروع کی جا رہی ہے، جس کا پہلا جلسہ 14 نومبر کو حیدرآباد میں ہوگا، جس میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کی ملکی سطح کی مرکزی قیادت شرکت کرے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔