قدرتی وسائل کواستعمال میں لاکر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے‘ڈپٹی چیئرمین سینٹ
اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT
اسلام آباد(خبرنگار) ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان سے پارلیمنٹ ہاؤس میں مختلف وفود نے ملاقات کی جس کے دوران ملک کی معاشی سیاسی اور سماجی صورتحال تجارت سرمایہ کاری صنعت معدنیات اور عوامی ریلیف سے متعلق اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا وفود نے پاکستان میں تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ، کاروباری سرگرمیوں میں سہولت فراہم کرنے، بزنس کمیونٹی کو درپیش مسائل اور مائنز اینڈ منرلز کے شعبے کی ترقی سے متعلق اپنی تجاویز پیش کیں سیدال خان نے کہا کہ پاکستان میں معدنیات اور کان کنی کا شعبہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے اور ان قیمتی قدرتی وسائل کے مثر استعمال سے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔ مائنز اینڈ منرلز کے شعبے پر خصوصی توجہ دینے، سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنے اور نوجوانوں کو اس شعبے سے وابستہ کرنے کی اشد ضرورت ہے
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔