سینٹ کو انتشار اور محاذ آرائی کا میدان نہیں بننے دیا جائے گا: ڈپٹی چیئرمین
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
اسلام آباد (خبرنگار) ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان نے کہا ہے کہ سینیٹ کو سیاسی محاذ آرائی، انتشار یا کسی بھی قسم کی ہنگامہ آرائی کا مرکز نہیں بننے دیا جائے گا۔پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا نمائندگان سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سینیٹ چاروں صوبوں کی مساوی نمائندگی پر مشتمل واحد وفاقی ایوان ہے اور اس کے تقدس، قواعد وضوابط اور آئینی دائرہ کار کا تحفظ تمام اراکین کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔سیدال خان نے بتایا کہ قائم مقام چیئرمین سینیٹ کی جانب سے جاری کردہ رولنگ پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے پی ٹی آئی سمیت تمام پارلیمانی لیڈرز کو باضابطہ خطوط ارسال کر دیے گئے ہیں جبکہ اس رولنگ کی کاپی قائد ایوان، وزارتِ قانون اور چیف وہپ کو بھی بھجوا دی گئی ہے تاکہ کسی قسم کا ابہام باقی نہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے والے ارکان کی معطلی سے متعلق رولنگ 4 دسمبر کو جاری کی گئی تھی جس پر سختی سے عمل کیا جائے گا۔ ڈپٹی چیئرمین نے کہا کہ ایوان میں قومی ہیروزخواہ وہ عسکری شعبے، سیاست، عدلیہ یا کسی بھی قومی ادارے سے تعلق رکھتے ہوں، کے خلاف توہین آمیز یا منفی گفتگو کی اجازت نہیں دی جا سکتی،ہر رکن کو اظہارِ رائے کا حق حاصل ہے، مگر یہ حق آئین، قواعد اور پارلیمانی روایات کے دائرے میں رہتے ہوئے استعمال ہونا چاہیے۔انہوں نے واضح کیا کہ جمعہ کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعات کے بعد دی گئی رولنگ میں یہ بات کھل کر بتا دی گئی ہے کہ سینیٹ کے اندر بینرز، تصاویر یا ایسا کوئی مواد لانا جو پارلیمانی ڈیکورم کو مجروح کرے ، ہرگز قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی ساکھ اور وقار کا تحفظ ہم سب پر فرض ہے۔سیدال خان نے موجودہ ملکی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت علاقائی تناؤ، دہشت گردی کے خدشات اور معاشی چیلنجز جیسے اہم مسائل سے دوچار ہے، ایسے میں سیاسی کشیدگی یا انتشار کو فروغ دینا قومی مفاد کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز ملک کی سلامتی اور امن کے لیے عظیم قربانیاں دے رہی ہیں، لہٰذا کسی بھی فورم پر غیر ذمہ دارانہ بیانات سے اجتناب ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ ایوان میں کوئی بھی رکن آئینی دائرے میں رہتے ہوئے بات کرے گا تو اس کے حقِ اظہار کی مکمل ضمانت دی جائے گی، تاہم پارلیمنٹ کو دباؤ، دھمکی یا اشتعال انگیزی کا مرکز نہیں بننے دیا جائیگا۔ ’’رولنگ کسی جماعت، فرد یا گروہ کے خلاف نہیں بلکہ سینیٹ کے قواعد و قانون کے مطابق ہے۔ مقصد صرف ایوان کی حرمت اور پارلیمانی اقدار کا تسلسل ہے۔ڈپٹی چیئرمین نے کہا کہ زیادہ تر پارلیمانی لیڈر سنجیدہ اور ذمہ دار ہیں اور امید ہے کہ تمام سیاسی قوتیں پارلیمنٹ کے تقدس کے لیے اپنا کردار ادا کریں گی،آج ہم ان نشستوں پر بیٹھے ہیں، کل کوئی اور ہوگا، مگر آئین، ادارے اور پارلیمانی روایات ہمیشہ قائم رہتے ہیں۔سیدال خان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک کی ترقی، استحکام اور خوشحالی کا راستہ جمہوری اصولوں، قانون کی بالادستی اور ذمہ دار پارلیمانی کردار سے ہو کر گزرتا ہے۔ ’’جب میں ایوان میں بیٹھتا ہوں تو میرے سامنے کوئی خاص یا عام نہیں ہوتا، میرے سامنے صرف پاکستان، آئین پاکستان اور پارلیمنٹ کی بالادستی ہوتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ ڈپٹی چیئرمین سیدال خان نے کہ سینیٹ
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔