اسلام آباد (خبرنگار) ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان نے کہا ہے کہ سینیٹ کو سیاسی محاذ آرائی، انتشار یا کسی بھی قسم کی ہنگامہ آرائی کا مرکز نہیں بننے دیا جائے گا۔پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا نمائندگان سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سینیٹ چاروں صوبوں کی مساوی نمائندگی پر مشتمل واحد وفاقی ایوان ہے اور اس کے تقدس، قواعد وضوابط اور آئینی دائرہ کار کا تحفظ تمام اراکین کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔سیدال خان نے بتایا کہ قائم مقام چیئرمین سینیٹ کی جانب سے جاری کردہ رولنگ پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے پی ٹی آئی سمیت تمام پارلیمانی لیڈرز کو باضابطہ خطوط ارسال کر دیے گئے ہیں جبکہ اس رولنگ کی کاپی قائد ایوان، وزارتِ قانون اور چیف وہپ کو بھی بھجوا دی گئی ہے تاکہ کسی قسم کا ابہام باقی نہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے والے ارکان کی معطلی سے متعلق رولنگ 4 دسمبر کو جاری کی گئی تھی جس پر سختی سے عمل کیا جائے گا۔ ڈپٹی چیئرمین نے کہا کہ ایوان میں قومی ہیروزخواہ وہ عسکری شعبے، سیاست، عدلیہ یا کسی بھی قومی ادارے سے تعلق رکھتے ہوں، کے خلاف توہین آمیز یا منفی گفتگو کی اجازت نہیں دی جا سکتی،ہر رکن کو اظہارِ رائے کا حق حاصل ہے، مگر یہ حق آئین، قواعد اور پارلیمانی روایات کے دائرے میں رہتے ہوئے استعمال ہونا چاہیے۔انہوں نے واضح کیا کہ جمعہ کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعات کے بعد دی گئی رولنگ میں یہ بات کھل کر بتا دی گئی ہے کہ سینیٹ کے اندر بینرز، تصاویر یا ایسا کوئی مواد لانا جو پارلیمانی ڈیکورم کو مجروح کرے ، ہرگز قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی ساکھ اور وقار کا تحفظ ہم سب پر فرض ہے۔سیدال خان نے موجودہ ملکی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت علاقائی تناؤ، دہشت گردی کے خدشات اور معاشی چیلنجز جیسے اہم مسائل سے دوچار ہے، ایسے میں سیاسی کشیدگی یا انتشار کو فروغ دینا قومی مفاد کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز ملک کی سلامتی اور امن کے لیے عظیم قربانیاں دے رہی ہیں، لہٰذا کسی بھی فورم پر غیر ذمہ دارانہ بیانات سے اجتناب ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ ایوان میں کوئی بھی رکن آئینی دائرے میں رہتے ہوئے بات کرے گا تو اس کے حقِ اظہار کی مکمل ضمانت دی جائے گی، تاہم پارلیمنٹ کو دباؤ، دھمکی یا اشتعال انگیزی کا مرکز نہیں بننے دیا جائیگا۔ ’’رولنگ کسی جماعت، فرد یا گروہ کے خلاف نہیں بلکہ سینیٹ کے قواعد و قانون کے مطابق ہے۔ مقصد صرف ایوان کی حرمت اور پارلیمانی اقدار کا تسلسل ہے۔ڈپٹی چیئرمین نے کہا کہ زیادہ تر پارلیمانی لیڈر سنجیدہ اور ذمہ دار ہیں اور امید ہے کہ تمام سیاسی قوتیں پارلیمنٹ کے تقدس کے لیے اپنا کردار ادا کریں گی،آج ہم ان نشستوں پر بیٹھے ہیں، کل کوئی اور ہوگا، مگر آئین، ادارے اور پارلیمانی روایات ہمیشہ قائم رہتے ہیں۔سیدال خان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک کی ترقی، استحکام اور خوشحالی کا راستہ جمہوری اصولوں، قانون کی بالادستی اور ذمہ دار پارلیمانی کردار سے ہو کر گزرتا ہے۔ ’’جب میں ایوان میں بیٹھتا ہوں تو میرے سامنے کوئی خاص یا عام نہیں ہوتا، میرے سامنے صرف پاکستان، آئین پاکستان اور پارلیمنٹ کی بالادستی ہوتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ ڈپٹی چیئرمین سیدال خان نے کہ سینیٹ

پڑھیں:

بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔

انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا