وائلڈ لائف انفارمر مہم، پنجاب میں غیر قانونی شکار کی روک تھام کے لیے اہم اقدام
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر پنجاب وائلڈلائف نے صوبے بھر میں پہلی بار وائلڈ لائف انفارمر مہم کا آغاز کر دیا ہے۔
انفارمرز کو بھاری رقم انعام کے طور پر دی جائیگی، اس مہم کا مقصد غیر قانونی شکار، جالوں کے ذریعے پکڑنے اور چوری چھپے شکار کی سرگرمیوں کی روک تھام ہے جس میں شہریوں کو بھی فعال کردار دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وائلڈلائف حکام کے مطابق شہری اگر کسی بھی غیر قانونی شکار یا جال بچھانے کے بارے میں درست اور قابلِ تصدیق معلومات فراہم کرتے ہیں تو ان کی نشاندہی پر کارروائی کی جائے گی۔ معلومات درست ثابت ہونے اور کامیاب کارروائی کے بعد متعلقہ انفارمر کو سرکاری طور پر مقرر کردہ انعام بھی دیا جائے گا۔
محکمہ وائلڈ لائف نے مختلف جانوروں اور غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے انعامات کی تفصیل بھی جاری کر دی ہے۔ گریٹ انڈین بسٹرڈ کی اطلاع پر 1 لاکھ روپے، جبکہ اڑیال اور ہرن کی غیر قانونی شکار کی نشاندہی پر 50 ہزار روپے انعام رکھا گیا ہے۔
ہوبارا بسٹرڈ کے لیے 25 ہزار روپے، جب کہ جال بچھانے، رات کے وقت تیتر کے غیر قانونی شکار، مور، بٹیر اور آبی پرندوں کے شکار کی اطلاع پر 10 ہزار روپے انعام ملے گا۔ اس کے علاوہ تیتر اور جنگلی خرگوش کے غیر قانونی شکار کی نشاندہی پر 5 ہزار روپے انعام مقرر کیا گیا ہے۔
وائلڈلائف حکام کے مطابق شہریوں کی شمولیت کے بغیر غیر قانونی شکار کی روک تھام ممکن نہیں، اس لیے عوام اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور پنجاب کی جنگلی حیات کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: غیر قانونی شکار کی ہزار روپے
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔