وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر  پنجاب وائلڈلائف  نے صوبے بھر میں پہلی بار وائلڈ لائف انفارمر مہم  کا آغاز کر دیا ہے۔

انفارمرز کو بھاری رقم انعام کے طور پر دی جائیگی، اس مہم کا مقصد غیر قانونی شکار، جالوں کے ذریعے پکڑنے اور چوری چھپے شکار کی سرگرمیوں کی روک تھام ہے جس میں شہریوں کو بھی فعال کردار دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وائلڈلائف حکام کے مطابق شہری اگر کسی بھی غیر قانونی شکار یا جال بچھانے کے بارے میں درست اور قابلِ تصدیق معلومات فراہم کرتے ہیں تو ان کی نشاندہی پر کارروائی کی جائے گی۔ معلومات درست ثابت ہونے اور کامیاب کارروائی کے بعد متعلقہ انفارمر کو سرکاری طور پر مقرر کردہ انعام بھی دیا جائے گا۔

محکمہ وائلڈ لائف نے مختلف جانوروں اور غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے انعامات کی تفصیل بھی جاری کر دی ہے۔ گریٹ انڈین بسٹرڈ کی اطلاع پر 1 لاکھ روپے، جبکہ اڑیال اور ہرن کی غیر قانونی شکار کی نشاندہی پر 50 ہزار روپے انعام رکھا گیا ہے۔

ہوبارا بسٹرڈ کے لیے 25 ہزار روپے، جب کہ جال بچھانے، رات کے وقت تیتر کے غیر قانونی شکار، مور، بٹیر اور آبی پرندوں کے شکار کی اطلاع پر 10 ہزار روپے انعام ملے گا۔ اس کے علاوہ تیتر اور جنگلی خرگوش کے غیر قانونی شکار کی نشاندہی پر 5 ہزار روپے انعام مقرر کیا گیا ہے۔

وائلڈلائف حکام کے مطابق شہریوں کی شمولیت کے بغیر غیر قانونی شکار کی روک تھام ممکن نہیں، اس لیے عوام اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور پنجاب کی جنگلی حیات کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کریں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: غیر قانونی شکار کی ہزار روپے

پڑھیں:

سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان

مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث

شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔

متعلقہ مضامین

  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان