سعودی عرب کے نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف اور پرنس محمد بن سلمان رائل ریزرو ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے مشترکہ طور پر 35 نایاب اور معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار جانوروں کی فطرت میں واپسی کا عمل مکمل کیا، جس کا مقصد حیاتیاتی تنوع کو فروغ دینا، ماحولیاتی توازن کو بحال کرنا اور ای کو ٹورزم کو بڑھانا ہے۔

مركز الحياة الفطرية يطلق 35 كائنًا فطريًّا بمحمية الأمير محمد بن سلمان الملكية.

– 10 من ظباء الإدمي.
– 5 من النعام.
– 20 من طائر الحبارى. pic.twitter.com/vzM1yx4KPp

— مجتمعنا (@KSASociety) December 10, 2025

اس پروگرام کے تحت 10 عربین اوریکس، 5 شترمرغ، اور 20 ہوبارا بسٹارڈز کو دوبارہ فطری ماحول میں چھوڑا گیا۔ یہ اقدام نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف کی جاری منصوبہ بندی کا حصہ ہے، جس کا مقصد معدوم ہونے والے جانوروں کو پالا، ان کی نسل بڑھانا اور انہیں قدرتی ماحول میں بحال کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سعودیہ میں عربی ہرن کی پیدائش، جنگلی حیات کے تحفظ کی کامیابی کا جشن

یہ منصوبہ سعودی عرب میں جنگلی حیات کے تحفظ اور قدرتی ماحولیاتی نظام کی بحالی کے لیے اہم پیشرفت ہے۔ مرکز کا کہنا ہے کہ اس قسم کے اقدامات نہ صرف جانوروں کی بقا کے لیے ضروری ہیں بلکہ مقامی اور بین الاقوامی سیاحوں کے لیے ای کو ٹورزم کو فروغ دینے میں بھی مددگار ثابت ہوں گے۔

أطلق المركز بالتعاون مع @PMBSRReserve، ٣٥ كائنًا فطريًا في محمية الأمير محمد بن سلمان الملكية، ضمن برامج إكثار وإعادة توطين الكائنات الفطرية في موائلها الطبيعية، لإثراء التنوع الأحيائي ودعم استدامة النظم البيئية #بحياتها_نحيا pic.twitter.com/JNBOQKFOLy

— المركز الوطني لتنمية الحياة الفطرية (@NCW_center) December 10, 2025

نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف اور رائل ریزرو اتھارٹی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی اس طرح کے پروگرام جاری رہیں گے تاکہ سعودی عرب کی نایاب اور معدوم ہوتی ہوئی انواع کو بچایا جا سکے اور ملک کے ماحولیاتی توازن کو مستحکم بنایا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

سعودی عرب شترمرغ نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف ہرن

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف کے لیے

پڑھیں:

حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا

وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ
  • ایس سی او اجلاس: اسحاق ڈار کا علاقائی امن اور تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ
  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • جنرل عامر رضا نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کے نئے کمانڈر مقرر
  • چینی چڑیا گھر میں جانور گرمی کی شدید لہر سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟
  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا