ایشیز: جوش ہیزل ووڈ سیریز سے باہر، پیٹ کمنز کی ایڈیلیڈ ٹیسٹ سے واپسی یقینی
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے کپتان پیٹ کمنز اگلے ہفتے ایڈیلیڈ میں ہونے والے تیسرے ایشیز ٹیسٹ میں قیادت سنبھالنے کے لیے تیار ہیں۔
آسٹریلوی ٹیم کے کوچ اینڈریو میک ڈونلڈ نے کمنز کی فٹنس کے حوالے سے بتایا کہ وہ مکمل طور پر تیار ہیں اور اگر کوئی نیا مسئلہ نہ ہوا تو وہ ایڈیلیڈ میں ایکشن میں دکھائی دیں گے۔ تاہم جوش ہیزل ووڈ انجری کے باعث پوری سیریز سے باہر ہو گئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہیزل ووڈ کی انجری توقع سے زیادہ سنگین ثابت ہوئی، جس کی وجہ سے وہ باقی سیریز میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔
ان کے مطابق ہیزل ووڈ کو ہیمسٹرنگ کے بعد اب نچلے پنڈلی اور ایڑی کے حصے میں مسئلہ ہے، جو ایک الگ انجری ہے۔
اس کے علاوہ عثمان خواجہ کے بھی ایڈیلیڈ ٹیسٹ کے لیے فٹ قرار دیے جانے کی توقع ہے۔
آسٹریلیا منگل کو جس 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کرے گا، اس میں پیٹ کمنز واحد نیا اضافہ ہوں گے۔
کوچ نے یہ بھی واضح کیا کہ کمنز کے طویل وقفے کے باوجود ان کی تیاری پر کوئی تشویش نہیں اور سلیکٹرز برسبین ٹیسٹ میں بھی انہیں شامل کرنے کے قریب تھے۔
آسٹریلوی ٹیم اب ایڈیلیڈ میں مکمل قوت کے ساتھ انگلینڈ کا مقابلہ کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہیزل ووڈ
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔