لاہور : 25 سال بعد تاریخی بسنت کی روایت واپس آ رہی ہے اور فروری میں یہ روایتی تہوار جوش وخروش سے منایا جائے گا۔ بہار کی آمد پر منائے جانے والے تاریخی بسنت تہوار کی 25 سال بعد واپسی ہو رہی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بسنت فیسٹیول کی بحالی کی منظوری دے دی ہے۔

اس حوالے سے پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے سماجی رابطوں کی سائٹ ایکس پر بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ 25 سال بعد تاریخی بسنت روایت کی واپسی ہو رہی ہے۔ 6، 7 اور 8 فروری 2026 کو لاہور بھر میں بسنت فیسٹیول منایا جائے گا۔سینئر وزیر نے کہا کہ بسنت فیسٹیول منانے سے قبل بسنت آرڈیننس 2025 مکمل طور پر نافذ کیا جائے گا۔ بسنت کی مانیٹرنگ کیلیے جدید سسٹم فعال کیا جائے گا۔ ہر پتنگ، ڈور اور فروخت کنندہ رجسٹرڈ اور کیو آر کوڈڈ ہوگا۔انہوں نے مزید بتایا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر موٹر سائیکلوں پر حفاظتی اینٹینا لازمی قرار دے دیا گیا ہے اور کل سے شہر بھر میں موٹر سائیکلوں پر اینٹینا لگانے کی مہم شروع ہوگی۔ بسنت سے پہلے لاہور کی ہر موٹر سائیکل پر اینٹینا لگا دیا جائے گا۔مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ بسنت عوام کا تہوار ہے اور اس کی کامیابی ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ شہریوں کی حفاظت حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے.

بسنت کے دوران سیکیورٹی اور سیفٹی پلان پر سختی سے عملدرآمد ہوگا۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: سال بعد جائے گا

پڑھیں:

خان سر کے کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ، کوچنگ سینٹر کو دو دن میں اڑانے کی دھمکی دی گئی

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پٹنہ کے مشلہ پور میں خان سر کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ کی گئی جس سے علاقے میں کچھ دیر کیلئے خوف و ہراس پھیل گیا، لوگوں نے پتھراؤ کی بھی اطلاع دی۔ اسلام ٹائمز۔ پٹنہ کے کدم کنواں تھانہ علاقے میں کل دیر رات افراتفری مچ گئی، جب کچھ شرپسند عناصر معروف استاد خان سر کے کوچنگ سینٹر میں گھس گئے اور توڑ پھوڑ اور لوگوں کے ساتھ مار پیٹ کی۔ واقعے میں کوچنگ سینٹر میں موجود کئی سامان کو نقصان پہنچا جب کہ وہاں تعینات ایک گارڈ شدید زخمی ہوگیا۔ سر میں چوٹ لگنے کے بعد اسے علاج کے لئے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پٹنہ پولیس حرکت میں آگئی۔ پٹنہ کے ایس ایس پی، کدم کنواں پولس اسٹیشن اور دیگر پولیس افسران کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچے اور معاملے کی جانچ شروع کی۔ پولیس کی ٹیمیں رات گئے تک جائے وقوعہ پر موجود رہیں اور عہدیدارون کی جانب سے شواہد اکٹھے کئے گئے۔

واقعہ کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچنے والے خان سر نے الزام لگایا کہ حال ہی میں ان کے کوچنگ انسٹی ٹیوٹ سے ہزاروں طلباء کو بہار پولیس بھرتی امتحان میں منتخب کیا گیا تھا، جس نے کچھ کمپٹیشن کرنے والے کوچنگ اداروں کو پریشان کر دیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں مسلسل دھمکیاں مل رہی تھیں، جس کے نتیجے میں حملہ اور توڑ پھوڑ کی گئی۔ خان سر نے کہا کہ یہ لوگ پوچھ رہے ہیں، ہم اتنی کم فیس پر کیوں پڑھا رہے ہیں، ہمیں اتنے اچھے نتائج کیوں مل رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب ہزاروں طلباء کے نتائج آتے ہیں تو کچھ سماج دشمن عناصر کو خطرہ محسوس ہوتا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پٹنہ کے مشلہ پور میں خان سر کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ کی گئی جس سے علاقے میں کچھ دیر کے لئے خوف و ہراس پھیل گیا۔ لوگوں نے پتھراؤ کی بھی اطلاع دی۔ حملے میں ایک سکیورٹی گارڈ زخمی ہوا ہے جسے علاج کے لئے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ واقعہ کے بعد سے علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ جائے وقوعہ پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ پٹنہ کے ایس ایس پی کارتکیہ کے شرما نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ کچھ طلباء نے کوچنگ سینٹر پر حملہ کیا اور توڑ پھوڑ کی۔ واقعے میں ایک گارڈ زخمی ہوا، اس کا بیان قلمبند کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • سمرکیمپ سے متعلق احکامات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا، وزیر تعلیم پنجاب
  • وزیر تعلیم پنجاب کا سمر کیمپ کے حوالے سے حکومتی ہدایت پر عملدرآمد نہ کرنے کا نوٹس
  • پہاڑوں پر برف پگھلنے سے دریا کمراٹ کے بہاؤ میں اضافہ، صورتحال خطرناک ہونے لگی
  • خان سر کے کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ، کوچنگ سینٹر کو دو دن میں اڑانے کی دھمکی دی گئی
  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (بدھ) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے