بلوچستان: بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کی صوبائی حکومت کی درخواستیں مسترد، سابقہ الیکشن شیڈول برقرار
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
الیکشن کمیشن نے بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات سےمتعلق درخواستوں پرفیصلہ سنادیا،جاری فیصلے میں کہاگیا ہےکہ انتخابات مؤخرکرنےکی وجوہات قانونی طورپرقابل قبول نہیں۔ پولنگ 28 دسمبرکو ہی ہوگی۔
وزیراعلیٰ بلوچستان اور گورنر کی طرف سے مقامی حکومت کے انتخابات مؤخر کرنے کی درخواستیں الیکشن کمیشن کو موصول ہوئی تھیں۔ تاہم کمیشن نے دونوں درخواستیں مسترد کر دی ہیں اور انتخابات کا شیڈول برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
فیصلےمیں کہاگیاکہ حالات وواقعات کےباوجودآئینی ذمہ داری پوری کرناضروری ہے،کوئٹہ میں بلدیاتی حلقہ بندیوں کاعمل 2مرتبہ مکمل کیاجاچکا ہے، اعتراضات کا فیصلہ بھی ہوچکا، ہائیکورٹ بھی درخواستیں خارج کرچکا۔
الیکشن کمیشن نےمؤقف اختیارکیا کہ آئین کے تحت بلدیاتی انتخابات مؤخر کرنا ممکن نہیں،سپریم کورٹ کہہ چکی کہ انتخابی معاملات پرحکم دینا ہمارا دائرہ اختیار ہے، صوبائی حکومت کی رکاوٹیں آئین کی خلاف ورزی کے مترادف ہوں گی۔
الیکشن کمیشن نے دونوں درخواستیں مسترد، الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابی شیڈول برقرار رکھا, الیکشن کمیشن نے فیصلہ صوبائی حکومت، گورنر اور تمام اداروں کو ارسال کر دیا۔
ممبر بلوچستان شاہ محمدجتوئی کا اکثریتی فیصلے سے اختلاف کہاسردی کے باعث لوگ ہجرت کر جاتے ہیں، امن و امان کی صورتحال بھی بہتر نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن نے
پڑھیں:
سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بذات خود نشہ کرنے والا شخص کسی بھی جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والے کو مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا کوئی حق حاصل ہے۔جیونیوز کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم ’سنی مسیح‘ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقراررکھنے کا حکم دے دیا۔
حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان
جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے کیس کا تحریری فیصلہ تحریر کیا ، جبکہ اس اہم کیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔دورانِ سماعت مجرم کے وکیل نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ واردات کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، لہٰذا اس بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
عدالت نے اس استدعا کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔ عدالت نے رولنگ دی کہ رضاکارانہ نشے کو کسی بھی مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قانون کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا کہ جرم سے استثنیٰ صرف اور صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف (زبردستی) یا پھر اس کی لاعلمی میں کوئی نشہ آور چیز دی گئی ہو اور وہ اپنے حواس میں نہ ہو۔
پاکستانی نوجوان مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کے عشق میں لائن آف کنٹرول کے پار پہنچ گیا
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم نے انتہائی بے دردی سے ایک کمسن اور معصوم بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا۔ یہ جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے جو کسی بھی رعایت کا متقاضی نہیں، لہٰذا مجرم کی اپیل خارج کی جاتی ہے۔
مزید :