اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)الیکشن کمیشن نے سابقہ الیکشن شیڈول برقرار رکھتے ہوئے کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کی صوبائی حکومت کی درخواستیں مسترد کردیں۔

نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق الیکشن کمیشن نے بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات سےمتعلق درخواستوں پرفیصلہ سنادیا،جاری فیصلے میں کہاگیا ہےکہ انتخابات مؤخرکرنےکی وجوہات قانونی طورپرقابل قبول نہیں۔ پولنگ 28 دسمبرکو ہی ہوگی۔

فیصلےمیں کہاگیاکہ حالات وواقعات کےباوجودآئینی ذمہ داری پوری کرناضروری ہے،کوئٹہ میں بلدیاتی حلقہ بندیوں کاعمل 2مرتبہ مکمل کیاجاچکا ہے،اعتراضات کافیصلہ بھی ہوچکا،ہائیکورٹ بھی درخواستیں خارج کرچکا۔

قومی اسمبلی میں اپوزیشن اراکین بانی پی ٹی آئی کے پوسٹرز لے آئے

الیکشن کمیشن نےمؤقف اختیارکیا کہ آئین کے تحت بلدیاتی انتخابات مؤخر کرنا ممکن نہیں،سپریم کورٹ کہہ چکی کہ انتخابی معاملات پرحکم دینا ہمارا دائرہ اختیار ہے،صوبائی حکومت کی رکاوٹیں آئین کی خلاف ورزی کے مترادف ہوں گی۔

الیکشن کمیشن نےدونوں درخواستیں مسترد، الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابی شیڈول برقرار رکھا, الیکشن کمیشن نے فیصلہ صوبائی حکومت، گورنر اور تمام اداروں کو ارسال کر دیا۔

ممبر بلوچستان شاہ محمدجتوئی کا اکثریتی فیصلے سے اختلاف کہاسردی کےباعث لوگ ہجرت کرجاتے ہیں، امن و امان کی صورتحال  بھی بہتر نہیں۔

سموگ تدارک کیلئے سخت اقدامات، پولیس سمیت تمام ہیوی گاڑیوں کی چیکنگ کا حکم

5 رکنی بینچ  کےرکن شاہ محمدجتوئی نےاکثریتی فیصلے سےاختلاف کیا،شاہ محمد جتوئی نے کوئٹہ بلدیاتی انتخابات سے متعلق اختلافی نوٹ جاری کیا،اختلافی نوٹ کے مطابق حد بندی،ووٹر لسٹ اور مدت پر اکثریتی فیصلے سے متفق ہوں،دسمبر کے سخت موسم میں ٹرن آؤٹ کم رہنے کا امکان ہے، سردی میں کوئٹہ کےشہری دیگر اضلاع کو ہجرت کرجاتے ہیں،بلوچستان میں امن و امان انتخابات کیلئے موزوں نہیں،28 دسمبر کے انتخابات مؤخر کرنے کی رائے سامنے آئی،انتخابات موسم اور امن و امان بہتر ہونے تک ملتوی ہونے چاہئیں۔

وزیراعلیٰ بلوچستان اورگورنر بلوچستان نے انتخابات مؤخر کرنے کی سفارش کی تھی،خیال رہے کہ الیکشن شیڈول کےمطابق کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات 28 دسمبر کو شیڈول ہیں۔

ویڈیو: ڈکی بھائی نے یاسر شامی کو سب کچھ بتادیا، سن کر آپ کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں، ظلم کی خوفناک داستان

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: میں بلدیاتی انتخابات کوئٹہ میں بلدیاتی الیکشن کمیشن نے صوبائی حکومت کرنے کی

پڑھیں:

شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے ایک بار پھر فاضل چینی کی فوری برآمد کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ اضافی چینی بیرون ملک فروخت کرنے سے ملک کو قریباً 50 کروڑ ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔

ماہرین اور صارفین کے حلقوں میں اس مطالبے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ برس بھی چینی کی برآمد کی اجازت کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں 50 سے 60 روپے فی کلو کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔

مزید پڑھیں: فاضل چینی برآمد کرنے کی اجازت دی جائے، ملک کو 50 کروڑ ڈالر زرمبادلہ مل سکتا ہے: شوگر ملز ایسوسی ایشن

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری ذکا اشرف نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ارسال کیے گئے خط میں کہا ہے کہ 26-2025 کے کرشنگ سیزن کے اختتام پر ملک میں چینی کے مجموعی ذخائر 79 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ ملک کی سالانہ ضرورت قریباً 66 لاکھ میٹرک ٹن ہے، اس طرح ملک میں 13 لاکھ میٹرک ٹن چینی سرپلس موجود ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق ایک ماہ کا تزویراتی ذخیرہ محفوظ رکھنے کے باوجود قریباً 7 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن چینی اضافی رہے گی، جسے برآمد کرکے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ فروخت نہ ہونے والے ذخائر کی وجہ سے شوگر ملوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے جبکہ گنے کے کاشتکاروں کی ادائیگیوں اور بینک قرضوں کی واپسی میں بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔

پی ایس ایم اے کا کہنا ہے کہ گزشتہ 2 برسوں کے دوران گنے کے کاشتکاروں کو بہتر نرخوں پر ادائیگی کی گئی جس کے باعث گنے کی کاشت اور فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔

ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ سیزن میں مزید ریکارڈ گنے کی فصل پیدا ہونے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں قریباً 20 لاکھ میٹرک ٹن اضافی چینی مارکیٹ میں آ سکتی ہے۔

دوسری جانب صارفین اور معاشی ماہرین شوگر ملز کے اس مؤقف کو تنقیدی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران بھی حکومت نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی اور اس وقت حکومتی اور صنعتی حلقوں کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ برآمدات سے مقامی مارکیٹ میں قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور چینی کی دستیابی برقرار رہے گی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 25-2024 کے دوران 67 شوگر ملوں نے مجموعی طور پر 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد کی جس سے قریباً 40 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا۔ تاہم برآمدات کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

مارکیٹ ذرائع کے مطابق 2 ماہ قبل پرچون سطح پر چینی کی قیمت قریباً 140 روپے فی کلو تھی جبکہ تھوک مارکیٹ میں 50 کلوگرام کا تھیلا قریباً 6 ہزار 200 روپے میں فروخت ہو رہا تھا۔

موجودہ صورتحال میں پرچون قیمت 190 سے 200 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ 50 کلوگرام کے تھیلے کی قیمت بڑھ کر 9 ہزار 100 روپے تک جا پہنچی ہے۔

قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے بعد گزشتہ سال حکومت نے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائیوں کا اعلان بھی کیا تھا۔

تاہم صارفین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے باوجود مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں کو مؤثر طور پر کنٹرول نہیں کیا جا سکا۔

شوگر ملز ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ چینی کو ذخیرہ کرنے کی مدت قریباً 2 سال ہوتی ہے اور اگر گزشتہ سال 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد نہ کی جاتی تو اس کے ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک جانب اضافی ذخائر کا دعویٰ کیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب برآمدات کے فوراً بعد مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ سامنے آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے برآمدی پالیسی پر سوالات جنم لیتے ہیں۔

مزید پڑھیں: چینی کی قیمتوں میں اضافہ: کس شوگر مل کے پاس کتنی چینی اسٹاک ہے؟

اب جبکہ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے ایک مرتبہ پھر چینی برآمد کرنے کی اجازت مانگی ہے، حکومت کو ایک ایسے فیصلے کا سامنا ہے جس میں ایک طرف زرمبادلہ کمانے کا امکان موجود ہے تو دوسری طرف عوام کو سستی چینی کی فراہمی اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر برآمدات کی اجازت دی جاتی ہے تو حکومت کو سخت نگرانی، شفاف اسٹاک آڈٹ اور قیمتوں کے مؤثر کنٹرول کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ گزشتہ سال کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟