امریکا سکیورٹی کی ضمانت دے تو انتخابات کرانے کیلئے تیار ہیں، ولادیمیر زیلنسکی
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
یوکرینی صدر نے انتخابات کے بدلے سکیورٹی کی ضمانت مانگ لی، یوکرینی صدر نے کہا کہ اگر امریکا اور دیگر اتحادی سکیورٹی کی ضمانت دیں تو وہ انتخابات کرانے کے لیے تیار ہیں اور یہ انتخابات اگلے 60 سے 90 دنوں میں کرائے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباؤ کے بعد یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ملک میں انتخابات کرانے کی حامی بھر لی۔ صدر زیلنسکی نے انتخابات کے بدلے سکیورٹی کی ضمانت مانگ لی، یوکرینی صدر نے کہا کہ اگر امریکا اور دیگر اتحادی سکیورٹی کی ضمانت دیں تو وہ انتخابات کرانے کے لیے تیار ہیں اور یہ انتخابات اگلے 60 سے 90 دنوں میں کرائے جا سکتے ہیں۔
یوکرینی صدر نے امن منصوبے سے متعلق دستاویز جلد سامنے لانے کا بھی اعلان کردیا۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین اور یورپی پارٹنر امن منصوبے سے متعلق نظرثانی شدہ دستاویز جلد امریکا کو پیش کریں گے۔ زیلنسکی نے کہا امن معاہدے سے متعلق امور برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے ساتھ لندن میں طے پائے۔ امریکا یوکرین کے لیے حقیقی سکیورٹی گارنٹی چاہتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سکیورٹی کی ضمانت انتخابات کرانے یوکرینی صدر نے نے کہا
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔