پاکستان اور کرغزستان میں بشکیک اور اسلام آباد کو جڑواں شہر قرار دینے کا معاہدہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان اور کرغزستان کے درمیان معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کے تبادلے کیے گئے ہیں۔
روزنامہ جنگ کے مطابق وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں کرغستان اور پاکستان کے درمیان مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشت کے تبادلے کی تقریب ہوئی۔ جس میں کرغزستان کے صدر صادر ژپاروف اور وزیراعظم شہباز شریف شریک ہوئے۔
وزیر اعظم شہباز شریف اور کرغزستان کے صدر صادر ژپاروف کے درمیان بشکیک اور اسلام آباد کو جڑواں شہر قرار دینے کا معاہدہ ہوا ہے۔
پاکستان اور کرغزستان کے درمیان کان کنی اور جیوسائنسز میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ ہوا۔
مسیحی ملازمین کیلئے دسمبر کی تنخواہیں پیشگی جاری کرنے کا نوٹیفکیشن جاری
تقریب کے دوران پاکستان فارن سروسز اکیڈمی اور کرغزستان ڈپلومیٹک اکیڈمی کے درمیان مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ ہوا جبکہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور کرغزستان کے وزیر خارجہ نے دستاویز کا تبادلہ کیا۔
پاکستان اور کرغزستان کے درمیان سیاحت اور توانائی کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت کا تبالہ ہوا۔
پاکستان اور کرغزستان کے درمیان سزا یافتہ قیدیوں کے تبادلے اور ثقافت کے شعبے میں بھی معاہدہ ہوا ہے۔ وزارت قانون و انصاف اور کرغزستان کی وزارت انصاف میں مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ ہوا۔
وزیر اعظم یوتھ پروگرام اور کرغز ثقافت، اطلاعات، کھیل و امور نوجوانان کی وزارت میں مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ ہوا۔
کرغز صدر کے اعزاز میں وزیراعظم ہاؤس میں استقبالیہ تقریب، گارڈ آف آنر پیش
وزیر اعظم شہباز شریف نے معاہدوں پر دستخط کی تقریب میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کرغزستان کے صدر کو پاکستان میں خوش آمدید کہتے ہیں، صدر صادر ژپاروف کا دورہ دوطرفہ تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 24 کروڑ عوام کی طرف سے معزز مہمان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ صدر صادر ژپاروف دو دہائیوں بعد پاکستان کا دورہ کرنے والے کرغزستان کے صدر ہیں، یہ دورہ مختلف شعبوں میں تعاون کی نئی جہت دینے کے لیے اہمیت کا حامل ہے، پاکستان اور کرغزستان کے تعلقات کی جڑیں تاریخ میں ہیں۔
ایئر انڈیا کا مسافر طیارہ ممکنہ طور پر جان بوجھ کر گرایا گیا: دی ٹیلی گراف
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں مختلف شعبوں میں تعاون، علاقائی اور عالمی امور پر گفتگو ہوئی، ہم نے تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ توانائی، تجارت اور روابط کے فروغ اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھائیں گے، پاکستان کرغزستان بزنس فورم سے معاشی تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی، مختلف شعبوں میں تعاون کے 15 معاہدے اور مفاہمتی یادداشتیں اہم پیشرفت ہے، 2 سال میں دوطرفہ تجارتی حجم 15سے 200 ملین ڈالر تک لے جائیں گے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: پاکستان اور کرغزستان کے درمیان مختلف شعبوں میں کرغزستان کے صدر شعبوں میں تعاون شہباز شریف پاکستان ا تعاون کی
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔