کرغزستان کے صدر اسلام آباد پہنچ گئے، صدر اور وزیراعظم نے استقبال کیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
اسلام آباد:
وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر کرغزستان کے صدر سادیر نورغوز ژاپاروف دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے، ایئرپورٹ پر صدر اور وزیراعظم نے ان کا استقبال کیا۔
سرکاری میڈیا کے مطابق کرغز صدر کے ہمراہ اعلیٰ سطح کا وفد بھی آیا ہے، وفد میں سینیئر وزراء، اعلیٰ حکام اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے کاروباری رہنما شامل ہیں۔
دورے کے دوران کرغز صدر کی صدرِ پاکستان اور وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ ون آن ون ملاقات اور وفود کی سطح پر مذاکرات بھی شیڈول ہیں۔
صدر ژاپاروف پاکستان کرغزستان بزنس فورم سے بھی خطاب کریں گے۔ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت میں تجارت، توانائی، دفاع، تعلیم، عوامی روابط اور علاقائی رابطہ کاری سمیت دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔
مذاکرات میں شراکت داری کو مزید وسعت دینے کے نئے مواقع پر بھی غور کیا جائے گا۔
کرغزستان کی جانب سے آخری صدارتی دورہ جنوری 2005ء میں ہوا تھا۔
یہ دورہ پاکستان اور کرغزستان کے درمیان برادرانہ تعلقات کی مضبوطی اور وسطی و جنوبی ایشیا میں امن و خوشحالی کے مشترکہ وژن کی عکاسی کرتا ہے۔
توقع ہے کہ یہ دورہ دوطرفہ تعاون کو نئی رفتار اور علاقائی و عالمی فورمز پر شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔