کرغزستان کے صدر پاکستان پہنچ گئے، صدر مملکت و وزیراعظم نے خوش آمدید کہا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
کرغزستان کے صدر نورگوجو جاپاروف اپنے اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور کرغزستان کے درمیان تعاون میں پیشرفت، وزیراعظم شہباز شریف کا اظہارِ اطمینان
ان وفد میں کرغزستان کے کابینہ کے سینئر وزرا اہم حکام اور کاروباری رہنماؤں سمیت کئی افراد شامل ہیں۔
صدر جاپروو کو اسلام آباد میں مشترکہ استقبالی تقریب کے دوران صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے معزز مہمان کو خوش آمدید کہا۔
صدر جاپروو آصف زرداری اور شہباز شریف سے اہم مذاکرات کریں گے۔ ان ملاقاتوں کے دوران پاکستان اور کرغزستان کے مابین تجارتی و اقتصادی تعلقات مضبوط کرنے کے لیے متعدد معاہدوں اور مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط متوقع ہیں۔
مزید پڑھیے: پاکستان، افغانستان، کرغزستان، تاجکستان کے مابین توانائی پراجیکٹ اگلے سال مکمل ہوگا
پروگرام کے تحت ایک درجن سے زائد معاہدے اور یاداشتوں پر دستخط ہوں گے جو دونوں ملکوں کے تعاون اور دوستی کو نئی راہیں دیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
صدر کرغزستان صدر نورگوجو جاپاروف کرغزستان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کرغزستان کرغزستان کے
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔