انجینیئر محمد علی مرزا کی ضمانت منظور، رہائی کا حکم جاری
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
لاہور کی عدالت عظمیٰ کی راولپنڈی بینچ نے انجینیئر محمد علی مرزا کی ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دے دیا۔
عدالت نے انہیں 5،5 لاکھ روپے کے 2 ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی۔
سماعت کی کارروائیمقدمے کی سماعت جسٹس صداقت علی خان نے کی جنہوں نے دلائل سننے کے بعد ضمانت کی منظوری کا فیصلہ سنایا۔
درج مقدمہ اور الزاماتانجینیئر محمد علی مرزا کے خلاف جہلم میں توہین مذہب کا مقدمہ درج ہے۔
پولیس کے مطابق یہ مقدمہ ایک شہری کی درخواست پر تھانہ سٹی میں درج کیا گیا جس میں پیکا ایکٹ اور 295-سی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔
سابقہ گرفتاریاس سے قبل محمد علی مرزا کو 3 ایم پی او کے تحت گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا تھا جہاں وہ عدالتی فیصلے کے منتظر تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انجینیئر محمد علی مرزا کی ضمانت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انجینیئر محمد علی مرزا کی ضمانت انجینیئر محمد علی مرزا
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔