میڈیا نے میری والدہ سری دیوی کی موت کو میم بنا دیا، اداکارہ جھانوی کپور کی سخت تنقید
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
بالی وڈ کی معروف اداکارہ جھانوی کپور نے میڈیا اور سوشل میڈیا کے رویوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ دور میں تجسس پسندی نے انسانی احساسات اور اخلاقیات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
’وی دی ویمن 2025‘ ایونٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان کی والدہ لیجنڈری اداکارہ سری دیوی کی وفات کو بھی غیر سنجیدہ انداز میں موضوعِ بحث بنا کر ’میم‘ میں تبدیل کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کیا بالی ووڈ اداکارہ جھانوی کپور شادی کر رہی ہیں؟
جھانوی کپور نے کہا کہ وہ اپنی والدہ کی موت کے بارے میں عوامی سطح پر بات کرنے سے گریز کرتی ہیں کیونکہ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ لوگ اسے شہ سرخیوں کے لیے استعمال کیا جانا سمجھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سری دیوی کی 2018 میں وفات ان کی زندگی کا سب سے ذاتی اور صدمہ انگیز تجربہ تھا، جسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صحافت، میڈیا کلچر اور آج کے سوشل میڈیا کی تجسس پسندی نے انسانی اخلاقیات کو مکمل طور پر پٹری سے اتار دیا ہے اور میں اسے ہر روز بڑھتے ہوئے دیکھ رہی ہوں۔ جب میں نے اپنی ماں کو کھویا تو وہ بہت خوفناک وقت تھا۔ مجھے نہیں معلوم کہ آپ لوگ تصور بھی کر سکتے ہیں کہ اپنے اتنے قریبی شخص کو کھونا کیسا ہوتا ہے اور پھر اس عمل کو ایک میم بنتے دیکھنا۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ اسے کیسے بیان کروں مگر صورتحال مزید خراب ہو چکی ہے‘۔
یہ بھی پڑھیں: سوناکشی سنہا کی طلاق اور بالی ووڈ کے 2 بڑے خانز کی موت، ماہر نجوم کی پیشگوئی
ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت میں نے جو محسوس کیا میں کبھی بھی اسے بیان نہیں کر پاؤں گی اور میں ہمیشہ اس بات سے محتاط رہتی ہوں کہ کہیں ایسا نہ لگے کہ میں لوگوں کی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے بات کر رہی ہوں۔ اسی لیے میں ہمیشہ پیچھے ہٹ جاتی ہوں کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ ہر کوئی موقع پرست ہے اور ہر کوئی صرف ایک ہیڈ لائن چاہتا ہے۔ مجھے نفرت ہوگی اگر کبھی یہ محسوس ہو کہ میں اپنی زندگی کے اتنے تکلیف دہ حصے یا اپنی ماں کے ساتھ رشتے کو کسی سرخی کے لیے استعمال کر رہی ہوں اسی لیے میں رک جاتی ہوں‘۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کے کس بالی ووڈ اداکارہ کے ساتھ تعلقات کے چرچے رہے؟
انہوں نے 11 نومبر کو دھرمیندر کے بارے میں پھیلنے والی جھوٹی خبروں کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے دھرم جی کے ساتھ جو ہویا ہوا دیکھا مجھے یقین ہے کہ یہ صرف بد سے بدتر ہوگا۔ میں سمجھتی ہوں کہ ہم خود بھی اس مسئلے کا حصہ ہیں۔ جب بھی ہم ان ویڈیوز سرخیوں یا بیانیوں کو ویوز، کمنٹس یا لائکس دیتے ہیں۔ جب بھی ہم ایسی چیزیں تلاش کرتے ہیں، ہم اسی کلچر کو بڑھاوا دیتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بالی ووڈ جھانوی کپور دھرمیندر شری دیوی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بالی ووڈ جھانوی کپور شری دیوی جھانوی کپور بالی ووڈ کے لیے
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔