ہر میڈیا چینلز میں جائیں گے، ہم نے بھارتی میڈیا سے بات کی بھارتی حکومت سے نہیں، علیمہ خانہر میڈیا چینلز میں جائیں گے، ہم نے بھارت کے میڈیا سے بات کی حکومت سے نہیں، علیمہ خان
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا کہ ہم ہر میڈیا چینلز پر جائیں گے، ہم نے بھارتی میڈیا سے بات کی ہے بھارتی حکومت سے نہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں پاکستان سے زیادہ مسلمان رہتے ہیں۔ عمران خان ایک عالمی لیڈر ہیں، بھارت کے مسلمان بھی عمران خان کو پسند کرتے ہیں اور ان کی امید بھی عمران خان ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: عمران خان سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل کے باہر علیمہ خان کا دھرنا ختم
علیمہ خان نے کہا کہ ہم ہر انٹرنیشنل میڈیا پر جائیں گے۔ میڈیا لوگوں کے نمائندے ہوتے ہیں، ہم انڈین حکومت سے نہیں میڈیا سے بات کررہے ہیں، انگلینڈ، امریکا ہو یا انڈیا سب جگہ سے ہمارے ساتھ لوگ رابطہ کررہے ہیں اور انہیں عمران خان کی فکر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ کو انڈین میڈیا سے بات کرنے کی فکر ہے لیکن عمران خان سے کیا ہورہا ہے اس کی فکر نہیں ہے، وہ غیرقانونی طور پر قید سابق وزیراعظم ہیں اس پر بھی میڈیا کو آواز اٹھانی چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی میڈیا پی ٹی آئی علیمہ خان عمران خان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارتی میڈیا پی ٹی ا ئی علیمہ خان حکومت سے نہیں میڈیا سے بات علیمہ خان جائیں گے
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔