ویدر آن دی وے‘‘ اسلام آباد تا لاہور موٹروے پر جدید ترین موسمیاتی الرٹ سسٹم نصب کیا جائے گا
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
ویب ڈیسک : اسلام آباد تا لاہور موٹروے پر ملک کے سب سے جدید ’’ویدر آن دی وے‘‘ الرٹ سسٹم کی تنصیب کی جائے گی۔
ویدر والیز اور ون نیٹ ورک کے درمیان یہ نمایاں شراکت علاقائی سطح پر اپنی نوعیت کی پہلی مثال ہے جو ایک بڑے سفری راستے پر ہائپر لوکل موسمی اطلاعات فراہم کرے گی ،یہ سسٹم مسافروں کو درست، حقیقی وقت میں موسمی معلومات فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ وہ شاہراہ پر زیادہ محفوظ اور باخبر فیصلے کر سکیں۔ ٹیکنالوجی نیٹ ورک میں 14 خودکار موسمی اسٹیشنز، 5 مخصوص ایئر کوالٹی سینسرز، 4 وژیبیلٹی سینسرز، سیٹیلائٹ ڈیٹا، اور موسم کی پیشگوئیاں شامل ہیں۔ یہ ڈیٹا ایک ڈسیژن سپورٹ انجن کے ذریعے پروسیس ہوتا ہے جو دھند، بارش، ہوا اور حدِ نگاہ میں کمی جیسی تیزی سے بدلتی صورتحال پر نظر رکھتا ہے۔
لکی مروت: پولیس موبائل پر خودکش حملہ، ایک اہلکار شہید، 6 زخمی
بعد ازاں یہ معلومات اسمارٹ فون ایپس، ویب پلیٹ فارمز اور موٹروے کے ٹول پلازوں پر نصب ایس ایم ڈی اسکرینز کے ذریعے مسافروں تک پہنچائی جاتی ہے۔پہلی بار موٹروے آپریٹرز، سرکاری ادارے اور ڈرائیورز راستے کی منصوبہ بندی، خطرات سے آگاہی اور باخبر فیصلوں کے لیے یکساں حقیقی وقت کا موسمی ڈیٹا حاصل کر سکیں گے۔ یہ طریقہ کار عالمی بہترین روڈ سیفٹی پریکٹسز کی عکاسی کرتا ہے۔موسمیاتی اور سینسر نیٹ ورکس کی یہ کثیف تنصیب موٹروے تک محدود نہیں بلکہ اس کے وسیع فوائد زرعی منصوبہ بندی، دھند کی پیشگوئی، لاجسٹکس، سیاحت، توانائی ماڈلنگ اور ماحولیاتی نگرانی تک پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ ڈیٹا کسانوں کی آبپاشی اور بوائی کی منصوبہ بندی میں مدد دیتا ہے، دھند کے شکار موٹروے حصوں کے بہتر انتظام کو فروغ دیتا ہے، ایئر کوالٹی مانیٹرنگ کو مضبوط کرتا ہے اور ڈینگی، فصلوں کے کیڑوں، پودوں کی بیماریوں اور دیگر مقامی ماحولیات سے متعلقہ خطرات کی بروقت معلومات فراہم کرتا ہے۔
لکی مروت: پولیس موبائل پر خودکش حملہ، ایک اہلکار شہید
مقامی طور پر تیار کردہ سافٹ ویئر اور مخصوص درآمد شدہ اجزاء پر مبنی یہ نظام پاکستان کے تنوع پر مبنی زمینی ماحول کے مطابق ڈیزائن کیا گیا ہے اور یہ موٹروے پولیس، این ڈی ایم اے اور دیگر سرکاری اداروں کی کارکردگی کو مزید مؤثر اور پر اعتماد بنا سکتا ہے۔ویدر والیز کا کام ملک بھر میں پھیلا ہوا ہے جہاں وہ ایڈوانس وارننگ سسٹمز اور موسمیاتی انٹیلیجنس کو بہتر بنا رہا ہے۔ اس کا ماڈلنگ سسٹم یورپی، جرمن، امریکی، سوئس اور مقامی ماڈلز کو یکجا کرتا ہے جو پاکستان کے پیچیدہ زمینی ڈھانچے کے مطابق ترتیب دیے گئے ہیں۔ یہ ڈیٹا زراعت، سیاحت، توانائی، صحت، ٹرانسپورٹ، شہری منصوبہ بندی اور ماحولیات سمیت متعدد شعبوں کی معاونت کرتا ہے۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ٹرائل پر فوری حکم امتناع کی استدعا مسترد
کمپنی کی مائیکرو کلائمیٹ میپنگ نے واضح طور پر دکھایا ہے کہ جیسے اسلام آباد میں شاہ اللہ دتہ، بھارہ کہو اور بنی گالہ جیسے علاقوں میں سالانہ بارش کی شرح چند کلومیٹر کے فاصلے پر بھی سینکڑوں ملی میٹر تک مختلف ہو سکتی ہے۔’’ویدر آن دی وے‘‘ کے ذریعے پاکستان محفوظ شاہراہوں، بہتر ایڈوانس وارننگ سسٹمز اور جدید موسمیاتی انفراسٹرکچر کی جانب ایک فیصلہ کن قدم اٹھا رہا ہے، جو مسافروں، کسانوں، منصوبہ سازوں اور عوامی تحفظ کے اداروں کے لیے یکساں طور پر مفید ہے۔ یہ ایک ایسے مستقبل کی نوید ہے جہاں موسم صرف مشاہدہ نہیں کیا جائے گا، بلکہ سمجھا جائے گا، پیشگی جانا جائے گا اور لوگوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
بحرین میں مستقل رہائش حاصل کریں، آسان شرائط سامنے آگئیں
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کرتا ہے جائے گا کے لیے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔