کچھ لوگ سیاسی مکالمے کو جرم سمجھتے ہیں، ملک احمد خان
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
فائل فوٹو
اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے کہا ہے کہ سیاسی اختلافات کو مکالمے سے ختم کیا جاسکتا ہے لیکن کچھ لوگ سیاسی مکالمے کو جرم سمجھتے ہیں۔
لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پنجاب اسمبلی میں تمام پارٹیوں کی نمائندگی موجود ہے، مقامی حکومتوں کا وجود نامکمل ایجنڈا ہے۔حکومت کو مضبوط کرنے سے ہی عوامی مسائل حل ہوں گے۔
ملک محمد احمد خان کا کہنا ہے کہ ترامیم تو آج ہوئی ہیں میں 15 برس سے کہہ رہا ہوں، میں اللّٰہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ پارلیمنٹ نے اپنی بات کی۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ پرائیویٹ کالج کے طالبعلم پر ایک ماہ میں 60 ہزار خرچ ہوتے ہیں جبکہ ایک دیہات کے طالبعلم پر سالانہ 16 ہزار خرچ ہوتے ہیں، اس صورت میں آپ کیسے میرٹ کا مقابلہ کریں گے، کہاں ہے میرٹ؟
انہوں نے کہا کہ وسائل کی منصفانہ تقسیم اہمیت کی حامل ہے، مضبوط پارلیمانی نظام ہی ترقی کا واحد راستہ ہے۔ مشرف کے دور میں بلدیاتی نظام بھرپور طریقے سے چلا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: نے کہا
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔