کوئٹہ، غیر ملکیوں کو شناختی کارڈ جاری کرنے کے الزام میں نادرا ملازمین گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
ایف آئی اے ذرائع کے مطابق ملزمان نے غیر ملکیوں کو شناختی کارڈز جاری کئے، جس پر انہوں نے پاسپورٹ حاصل کرکے سعودی عرب چلے گئے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے کوئٹہ میں غیر ملکیوں کو شناختی کارڈز کے اجراء کے الزام میں نادرا کے 3 آفیسران و اہلکاروں کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار ہونے والوں میں آر ایچ او کوئٹہ کے سید انور شاہ، جونیئر ایگزیکٹو سید اختر شاہ اور چمن زون کے خواجہ وقاص شامل ہیں۔ ملزمان کو کوئٹہ میں درج مقدمہ نمبر 3/24 ریاض ایمبیسی پاسپورٹ کیسز میں حراست میں لیا گیا ہے۔ ایف آئی اے ذرائع کے مطابق ملزمان نے بھاری رقوم کے عیوض غیر ملکیوں کو شناختی کارڈز جاری کئے تھے، جس پر غیر ملکی شناختی کارڈز ہولڈر پاسپورٹ حاصل کرکے سعودی عرب چلے گئے تھے۔ سعودی حکام کی تحقیقات کے بعد متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا تھا اور معاملے سے متعلق تحقیقات کیلئے پاکستانی حکام کو مراسلہ جاری کیا گیا تھا۔ ایف آئی اے حکام نے نادرا آفیسران و اہلکاروں کو بیان قلمبند کرانے کے لئے طلب کیا تھا، جنہیں حراست میں لیکر مزید تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: غیر ملکیوں کو شناختی شناختی کارڈز ایف آئی اے
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔