City 42:
2026-07-24@07:57:21 GMT

گرفتار ، نظربند افرادسے تفتیش کا  بل  سینیٹ سےمنظور

اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT

سٹی42:  اب پولیس کے قیدی کو اہل خانہ سے ملاقات کے لئے عدالتوں کے احکامات کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ گرفتار ، نظربند اور زیرحراست افراد سے تفتیش کا  بل  سینیٹ سے متفقہ طور پر منظور ہو گیا۔
اس مسودہِ قانون میں گرفتار ، نظربند اور زیرحراست افراد کو حقوق دینے سے متعلق ہ ترامیم پیش کی گئیں جن کو سینیٹ نے اتفاق رائے سے منطور کر لیا۔

سینئیر قانون دان، پیپلز پارٹی کے لیڈر اور سینیٹر فاروق نائیک  نے یہ بل پیش کیا تھا۔ فاروق ایچ نائیک نے بتایا کہ اس بل کے مطابق  گرفتار شخص کو گرفتاری کی وجوہات بتائی جائیں گی اور اس کو گرفتاری کی وجوہات کی  تحریر  فراہم کی جائے گی۔ 

لکی مروت: پولیس موبائل پر خودکش حملہ، ایک اہلکار شہید، 6 زخمی 

گرفتار کئے گئے شخص کو وکلاء کی معاونت حاصل ہو  گی۔

 گرفتار یا  حوالات میں کسی بھی وجہ سے قید شخص  کو اپنے اہل خانہ سے ملاقات کرنے کی اجازت اور دوائیاں مل سکیں گی۔

فاروق ایچ نائیک نے بتایا کہ موجودہ قوانین کے تحت ابھی گرفتار افراد کو  دوائیوں اور گھر کے کھانے کے لیے عدالت سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔

نئیے قانون کی قومی اسمبلی سے منطور اور نفاذ کے بعد اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والے پولیس افسران کو جرمانہ ہوگا ۔

لکی مروت: پولیس موبائل پر خودکش حملہ، ایک اہلکار شہید

Waseem Azmet.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

پڑھیں:

مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش

عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے  آیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے  فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔ 

انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں  زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔

بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے  مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین  تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر  رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن