---فائل فوٹو 

سپریم کورٹ آف پاکستان نے نوکری سے برخاست کرنے کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران پولیس اہلکاروں کی سزائیں برقرار رکھتے ہوئے درخواست گزاران کی اپیلیں خارج کر دیں۔

عدالتِ عظمیٰ نے ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے تین پولیس کانسٹیبلز کی اپیلوں پر فیصلہ جاری کر دیا۔

جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس نعیم اختر افغان پر مشتمل بینچ نے کیس کا فیصلہ سنایا۔

تینوں افراد پر زریاب خان نامی شخص کو غیرقانونی حراست میں رکھنے، اسے قتل کرنے کا الزام تھا۔

سپریم کورٹ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ پولیس اہلکاروں کو نوکری سے نکالنے کی محکمانہ کارروائیاں قانون کی حکمرانی، ریاستی اداروں پر اعتماد کو قائم رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔

فیصلے میں کہا گیا کہ آئین کا آرٹیکل 10 کسی شخص کی گرفتاری، حراست کے حوالے سے حفاظتی ضمانتیں فراہم کرتا ہے، کوئی بھی گرفتار شخص اس وقت تک حراست میں نہیں رکھا جاسکتا جب تک کہ اسے اس کی گرفتاری کی وجوہات سے آگاہ نہ کر دیا جائے، گرفتار شخص کو 24 گھنٹوں میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جانا ضروری ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ آئین کے آرٹیکل 14 کے مطابق انسان کی عزتِ نفس اور قانون کے تابع گھر کی پرائیویسی کی پامالی نہیں ہو سکتی۔

واضح رہے کہ درخواست گزاروں نے نوکری سے برخاست کرنے کے محکمانہ کارروائی کے فیصلے کے خلاف پنجاب سروس ٹریبونل سے رجوع کیا تھا۔

پنجاب سروس ٹریبونل نے اِن کو نوکری سے برخاست کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔

بعد ازاں نوکری سے برخاست کرنے کے فیصلے کے خلاف درخواست گزاران نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: نوکری سے برخاست کرنے سپریم کورٹ

پڑھیں:

آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔

وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔

حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔

حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔

وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم